سود

سودی بینک کی ملازمت چھوڑنے پر جو رقم بینک سے ملی اس کا استعمال کر نا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
80293
| تاریخ :
2024-12-30
معاملات / مالی معاوضات / سود

سودی بینک کی ملازمت چھوڑنے پر جو رقم بینک سے ملی اس کا استعمال کر نا جائز ہے؟

میں ایک بینک میں کیشیر کی جاب کرتا تھا، پھر اللہ تعالی نے توفیق دی تو جاب چھوڑ دی، مجھے کچھ رقم ملی بینک کی طرف سے جو تقریبا ً 5 لاکھ کے قریب ہے اور کچھ پیسے پہلے سے موجود تھے جو بینک کی کمائی سے تھے، میرا اور کوئی ذریعہ آمدن نہیں ، نہ کوئی جا ئیداد یا زمین ہے، اب میں کیا اس پیسے سے کوئی کاروبار کر سکتا ہوں یا ان پیسوں کو گھر یلو استعمال میں لا سکتا ہوں ؟ تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اگر کسی سودی بینک میں کیشیرکی جاب کرتا تھا تو ایسی صورت میں اگر چہ سائل پر مذکور رقم اور بینک سے حاصل شدہ تنخواہ بلانیت ِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے ،تاہم اگر سائل کے پاس اپنے حلال روزگار کے لیے اور رقم موجود نہ ہو تو مجبورا ًاس رقم سے مستفید ہونے کی گنجائش ہے، تاہم اس رقم کو بطورِ قرض اپنے حساب میں لکھ کر رکھ لے پھر بقدرِ گنجائش تھوڑی تھوڑی رقم بلا نیتِ ثواب صدقہ کرتا رہے، یہاں تک کہ مذکور تمام رقم کا حساب اس کے کھاتے سے ختم ہو جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ: احل اللہ البیع وحرم الربوٰا الخ (سورۃ البقرۃ، الآیۃ: 275)-
وفی الصحیح لمسلم: عن جابرؓ قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء، الخ (کتاب البیوع،باب لعن آکل الربا وموکلہ،ج 2، ص 860، المرقم: 4092، ط: البشریٰ)-
وفی تکملۃ فتح الملھم: حدثنا محمد بن الصباح (الی قولہ) عن جابرؓ قال لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربا، وموکلہ، وکاتبہ، وشاھدیہ، وقال ھم سوآء الخ
قال الشارح العلام مفتی تقی العثمانی حفظہ اللہ: تحت ھذا الحدیث (قولہ: وکاتبہ) لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ،ومن ھنا ظھر ان التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز فان کان عمل الموظف فی البنک مایعین علی الربا، کالکتابۃ او الحساب فذالک حرام مستجلب بالربا، واما اذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فانہ حرام للوجہ الثانی فحسب، فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الاعمال الخ(کتاب البیوع،باب لعن آکل الربا وموکلہ الخ،ج 1، ص619،ط: دار العلوم کراچی)-
وفی فقہ البیوع: انه يسوغ للمفتي بعد النظر في احوال المستفتي ان يفتيه بصرف ذلك المال في حاجه نفسه بطريق الاقتراض، والالزام على نفسه ا، یتصدق بمثله، ولو في اقساط، متى وجد ذلك سعة، وبأن يلتمس كسبا حلالا في اقرب وقت، وذلك للعمل باهون البليتين، الخ (المبحث العاشر فی احکام المال الحرام،القسم الرابع أن المال مرکب من الحلال والحرام، صرف الربح فی حاجۃ نفسہ، ج 2، ص 1047، ط: مکتبۃ معارف القرآن)-
وفیہ ایضاً: ما وجب التصدق به لكاسب الحرام، واحتاج اليه لنفقته ونفقه عياله يجوز صرفه الى نفسه، فان كان فقيرا لا يجب عليه التصدق بمثله، وان كان غنيا ولم يكن المال الحلال كافيا لسدّ حاجته، يسوغ للمفتي بعد النظر الى احواله ان يفتيه بجواز الاقتراض مما عنده من المال الحرام بشرط ان يلزم نفسه تسديد هذا القرص الى الفقراء من المال الحلال كلما تيسر له ذلك، فيجب عليه ان يتصدق بمثله، (المبحث العاشر فی احکام المال الحرام،خلاصۃ البحث، ج 2، ص 1055، ط: مکتبۃ معارف القرآن)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80293کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات