میں ایک بینک میں کیشیر کی جاب کرتا تھا، پھر اللہ تعالی نے توفیق دی تو جاب چھوڑ دی، مجھے کچھ رقم ملی بینک کی طرف سے جو تقریبا ً 5 لاکھ کے قریب ہے اور کچھ پیسے پہلے سے موجود تھے جو بینک کی کمائی سے تھے، میرا اور کوئی ذریعہ آمدن نہیں ، نہ کوئی جا ئیداد یا زمین ہے، اب میں کیا اس پیسے سے کوئی کاروبار کر سکتا ہوں یا ان پیسوں کو گھر یلو استعمال میں لا سکتا ہوں ؟ تفصیل سے جواب مرحمت فرمائیں۔
سائل اگر کسی سودی بینک میں کیشیرکی جاب کرتا تھا تو ایسی صورت میں اگر چہ سائل پر مذکور رقم اور بینک سے حاصل شدہ تنخواہ بلانیت ِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے ،تاہم اگر سائل کے پاس اپنے حلال روزگار کے لیے اور رقم موجود نہ ہو تو مجبورا ًاس رقم سے مستفید ہونے کی گنجائش ہے، تاہم اس رقم کو بطورِ قرض اپنے حساب میں لکھ کر رکھ لے پھر بقدرِ گنجائش تھوڑی تھوڑی رقم بلا نیتِ ثواب صدقہ کرتا رہے، یہاں تک کہ مذکور تمام رقم کا حساب اس کے کھاتے سے ختم ہو جائے۔
کما قال اللہ: احل اللہ البیع وحرم الربوٰا الخ (سورۃ البقرۃ، الآیۃ: 275)-
وفی الصحیح لمسلم: عن جابرؓ قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء، الخ (کتاب البیوع،باب لعن آکل الربا وموکلہ،ج 2، ص 860، المرقم: 4092، ط: البشریٰ)-
وفی تکملۃ فتح الملھم: حدثنا محمد بن الصباح (الی قولہ) عن جابرؓ قال لعن رسول اللہ ﷺ آکل الربا، وموکلہ، وکاتبہ، وشاھدیہ، وقال ھم سوآء الخ
قال الشارح العلام مفتی تقی العثمانی حفظہ اللہ: تحت ھذا الحدیث (قولہ: وکاتبہ) لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ،ومن ھنا ظھر ان التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز فان کان عمل الموظف فی البنک مایعین علی الربا، کالکتابۃ او الحساب فذالک حرام مستجلب بالربا، واما اذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فانہ حرام للوجہ الثانی فحسب، فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الاعمال الخ(کتاب البیوع،باب لعن آکل الربا وموکلہ الخ،ج 1، ص619،ط: دار العلوم کراچی)-
وفی فقہ البیوع: انه يسوغ للمفتي بعد النظر في احوال المستفتي ان يفتيه بصرف ذلك المال في حاجه نفسه بطريق الاقتراض، والالزام على نفسه ا، یتصدق بمثله، ولو في اقساط، متى وجد ذلك سعة، وبأن يلتمس كسبا حلالا في اقرب وقت، وذلك للعمل باهون البليتين، الخ (المبحث العاشر فی احکام المال الحرام،القسم الرابع أن المال مرکب من الحلال والحرام، صرف الربح فی حاجۃ نفسہ، ج 2، ص 1047، ط: مکتبۃ معارف القرآن)-
وفیہ ایضاً: ما وجب التصدق به لكاسب الحرام، واحتاج اليه لنفقته ونفقه عياله يجوز صرفه الى نفسه، فان كان فقيرا لا يجب عليه التصدق بمثله، وان كان غنيا ولم يكن المال الحلال كافيا لسدّ حاجته، يسوغ للمفتي بعد النظر الى احواله ان يفتيه بجواز الاقتراض مما عنده من المال الحرام بشرط ان يلزم نفسه تسديد هذا القرص الى الفقراء من المال الحلال كلما تيسر له ذلك، فيجب عليه ان يتصدق بمثله، (المبحث العاشر فی احکام المال الحرام،خلاصۃ البحث، ج 2، ص 1055، ط: مکتبۃ معارف القرآن)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1