کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے بینک سے سود پر قرضہ لیا ہے، اور ابھی تک یہ قرضہ واپس نہیں کیا ہے، لیکن قرضہ لیتے وقت شرح سود متعین کر کے اس پر تحریراً دستخط بھی کر دیے گئے ہیں۔ تو اب آیا اس قرض لی ہوئی رقم سے قربانی وغیرہ یا صدقہ وغیرہ کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ یا اس رقم کو اپنے استعمال میں لایا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت فرما ئیے کہ اب اگر سود کے ساتھ قرض واپس کیا جائے تو قرض دار گنہگار ہوگا یا نہیں ؟
اگرچہ سودی قرض کا معاملہ شرعاً نا جائز اور حرام ہے ،اور اگر اس طرح کا قرض قربانی کی غرض سے لیا جائے، تو اس کی شناعت اور قباحت اور بھی بڑھ جاتی ہے، تاہم صورتِ مسئولہ میں مذکور رقم جو قرض پر لی گئی ہے ،اس میں سود کی آمیزش نہیں، بلکہ وہ محض قرض کی رقم ہے، جس سے صاحبِ نصاب کا قربانی کرنا یا اس رقم سے صدقہ و خیرات کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔اور اگر اس بنا پر کہ اس طرح کرنے سے سودی معاملات کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی ،مذکور رقم سے قربانی یا صدقہ وغیرہ کرنے سے احتراز کیا جائے، تو یہ بہتر اور افضل ہے،جبکہ ایسی رقم مع سود واپس کرنے سے شخص مذکور گناہگار ہوگا، جس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ :فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ (البقرة: 279) -
و في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: " هم سواء " . رواه مسلم (2/ 134)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1