1۔ زید گھر آ رہا تھا، اور اس کے پاس تین ہزار روپے تھے، عمرو کو پیسوں کی ضرورت تھی ،عمرو نے زید سے کہا کہ تم مجھے تین ہزار روپے دے دو، میں تمہیں تین ماہ بعد سات ہزار روپے دونگا، زید نے اس بات سے انکار کر دیا ،اس انکار کی بنا پر عمرو نے زید سے کہا کہ تم کسی سے تین ہزار کا سونا خرید لو ،میں تم سے یہی سونا تین ماہ کے ادھار پر خریدتا ہوں ،تین ماہ بعد تم کو سات ہزار روپے دونگا ،آیا زید اور عمرو کا مذکور معاملہ درست ہے یا نہیں ؟
۲۔ زید نے عمرو کو تیس ہزار روپے کاروبار کیلئے دیے اور دونوں کے درمیان اس بارے میں کوئی بات طے نہیں ہوئی کہ منافع کسی حساب سے تقسیم کرینگے۔ عمرو نے یہ روپے لیکر دوکان میں سامان ڈال دیا، یاد رہے کہ زید نے عمرو کو یہ روپے صرف تین ماہ کے کاروبار کیلئے دیے تھے , تین ماہ کے بعد عمرو نے حساب کیا تو تقریباً دس ہزار منافع بچا، اس میں سے عمرو کے لئے دوکان کا کرایہ بجلی کا بل اور اپنی دیہاڑی نکالنا اور باقی آپس میں نصف نصف تقسیم کرنا آیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں، جبکہ پہلے سے نفع کی تقسیم عمرو کی دیہاڑی اور دکان کے کرایہ وغیرہ کی منافع سے نکالنے کی بات نہیں ہوئی تھی ،واضح رہے کہ ان تیس ہزار کو پوری دوکان میں شامل نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے ذریعے صرف ٹیلیفون کے کارڈ خریدے گئے اور اسی کا کاروبار کیا گیا، کارڈ فروخت ہونے پر اس کی رقم بھی الگ رکھی جاتی رہی , اس رقم کو پوری دوکان کے حساب میں شامل نہیں کیا گیا۔ اب اس منافع کو تین ماہ بعد آپس میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ واضح کیا جائے کہ منافع کس حساب سے تقسیم ہوں گے۔
۔ سوال میں مذکور پہلی صورت شرعاً ناجائز وحرام ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ مذکور دوسری صورت اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔
۲۔ مذکورہ صورت مضاربہ فاسدہ کی ہے اور اس کا حکم یہ ہے کر تین ماہ بعد کے حساب میں زید کل منافع کا حقدار ہے اور عمرو کو ان تین ماہ کی اجرت مثل یعنی ایسے کام پر اس قسم کے آدمی کو جو تنخواہ دی جاتی ہے، وہ ملے گی ۔لہٰذا اس منافع سے دوکان کا کرایہ اور ٹیلیفون بلوں کی کٹوتی بھی جائز نہیں ۔ اس سے احتراز لازم ہے۔
ففي البحر الرائق: لو باع فضة بفلوس أو ذهب بفلوس فإنه يشترط قبض أحد البدلين قبل الافتراق لا قبضهما كذا في الذخيرة اھ (6/ 211)۔
وفي المبسوط للسرخسي: وإن اشترى خاتم فضة أو خاتم ذهب فيه فص أو ليس فيه فص بكذا فلسا وليست الفلوس عنده فهو جائز أن تقابضا قبل التفرق أو لم يتقابضا لأن هذا بيع وليس بصرف فإنما افترقا عن عين بدين اھ (14/ 42)۔
وفي شرح المجله: وحكمها أن المضارب أمين بعد دفع المال إليه، ووكيل عند العمل وشريك عند الربح وأجير عند الفساد فله أجر مثله والربح كله لرب المال اھ (۴/ ۳۳۸) -
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0