۔ کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آدمی دار الحرب (لندن وغیرہ) میں رہتا ہے، اور وہاں کے بینک میں اپنی رقم بطورِ حفاظت رکھتا ہے، اب اس رقم پر جو سود ملتا ہے ،تو کیا شخصِ مذکور کے لئے یہ حلال ہے کہ نہیں؟
۲۔ کیا شخصِ مذکور دار الحرب میں اپنے مکان کا یا اپنے بیٹے بیٹی کی شادی کے موقع پر کسی شادی لان وغیرہ کا کرایہ اس سود سے ادا کر سکتا ہے یا نہیں ؟
۳۔ سود کی یہ رقم پاکستان میں رہنے والے کسی غریب مستحق شخص کو بھیج سکتا ہے یا نہیں ؟
۴۔ اگر کوئی آدمی پاکستان میں رہتا ہو اور اس نے دارالحرب کے کسی بینک میں اپنی رقم رکھی ہو تو ایسا شخص اس رقم پر ملنے والے سود کو استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟
براہِ مہربانی مذکورہ تمام سوالات کے جوابات تفصیلاً قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں دے کر ماجور ہوں۔
مسئلہ ’’ربا بين المسلم والحربی‘‘ اگر چہ قديماً و حديثاً مختلف فيہا رہا ہے ،اور اس موضوع پر معرکۃ الآراء مباحث بھی موجود ہیں ، لیکن حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے امداد الفتاوی میں جو رسالہ بنام ’’رافع الضنك عن منافع البنك ‘‘ تحریر فرمایا ہے ، اس میں انتہائی مضبوط اور واضح دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ دارالحرب میں مسلمان اور حربی کے درمیان سودی معاملے کا جواز مطلقاً نہیں، بلکہ چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے ، یہ شرائط امداد الفتاوی میں موجود ہیں ۔ ان شرائط کی روشنی میں آج کل کے غیر مسلم ممالک میں ’’ربا بین المسلم والحربی‘‘ کے جواز کا فتوی دینا مشکل ہے ۔ جبکہ کسی شخص کا ملکِ پاکستان میں رہتے ہوئے کسی غیر مسلم ملک یا اس کے بینک میں رقم جمع کروا کر اس پر نفع حاصل کرنا جائز نہیں، اس معاملہ کو ختم کرنا اور اس پر حاصل ہونے والے منافع کو بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔ چاہے مستحق پاکستان میں ہو یا کسی دوسرے ملک میں اور اسے کسی غریب کے لئے شادی لان کے کرایہ میں بھی دے سکتا ہے۔
جبکہ آئندہ کے لئے بہتر یہ ہیکہ جو بینک معتمد علماء کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں ان میں رقم رکھوا کر سرمایہ کاری کی جاوے تو اس کی بہر حال گنجائش اور غیر مسلم کے ساتھ سودی معاملہ کرنے سے بدرجہا بہتر و افضل ہے۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1