سود

غیر مسلم ممالک میں ’’ربا بين المسلم والحربی‘‘کا حکم

فتوی نمبر :
80155
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مالی معاوضات / سود

غیر مسلم ممالک میں ’’ربا بين المسلم والحربی‘‘کا حکم

۔ کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آدمی دار الحرب (لندن وغیرہ) میں رہتا ہے، اور وہاں کے بینک میں اپنی رقم بطورِ حفاظت رکھتا ہے، اب اس رقم پر جو سود ملتا ہے ،تو کیا شخصِ مذکور کے لئے یہ حلال ہے کہ نہیں؟
۲۔ کیا شخصِ مذکور دار الحرب میں اپنے مکان کا یا اپنے بیٹے بیٹی کی شادی کے موقع پر کسی شادی لان وغیرہ کا کرایہ اس سود سے ادا کر سکتا ہے یا نہیں ؟
۳۔ سود کی یہ رقم پاکستان میں رہنے والے کسی غریب مستحق شخص کو بھیج سکتا ہے یا نہیں ؟
۴۔ اگر کوئی آدمی پاکستان میں رہتا ہو اور اس نے دارالحرب کے کسی بینک میں اپنی رقم رکھی ہو تو ایسا شخص اس رقم پر ملنے والے سود کو استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟
براہِ مہربانی مذکورہ تمام سوالات کے جوابات تفصیلاً قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں دے کر ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسئلہ ’’ربا بين المسلم والحربی‘‘ اگر چہ قديماً و حديثاً مختلف فيہا رہا ہے ،اور اس موضوع پر معرکۃ الآراء مباحث بھی موجود ہیں ، لیکن حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے امداد الفتاوی میں جو رسالہ بنام ’’رافع الضنك عن منافع البنك ‘‘ تحریر فرمایا ہے ، اس میں انتہائی مضبوط اور واضح دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ دارالحرب میں مسلمان اور حربی کے درمیان سودی معاملے کا جواز مطلقاً نہیں، بلکہ چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے ، یہ شرائط امداد الفتاوی میں موجود ہیں ۔ ان شرائط کی روشنی میں آج کل کے غیر مسلم ممالک میں ’’ربا بین المسلم والحربی‘‘ کے جواز کا فتوی دینا مشکل ہے ۔ جبکہ کسی شخص کا ملکِ پاکستان میں رہتے ہوئے کسی غیر مسلم ملک یا اس کے بینک میں رقم جمع کروا کر اس پر نفع حاصل کرنا جائز نہیں، اس معاملہ کو ختم کرنا اور اس پر حاصل ہونے والے منافع کو بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔ چاہے مستحق پاکستان میں ہو یا کسی دوسرے ملک میں اور اسے کسی غریب کے لئے شادی لان کے کرایہ میں بھی دے سکتا ہے۔
جبکہ آئندہ کے لئے بہتر یہ ہیکہ جو بینک معتمد علماء کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں ان میں رقم رکھوا کر سرمایہ کاری کی جاوے تو اس کی بہر حال گنجائش اور غیر مسلم کے ساتھ سودی معاملہ کرنے سے بدرجہا بہتر و افضل ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 80155کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات