السلام علیکم!
کیا کہتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ دو پارٹنرز مل کر ایک کاروبار چلارہے تھے اور بچت میں 50+50 کے پارٹنرز تھے۔ پھر ان دونوں پر ایک کیس بن گیا جس کی وجہ سے کاروبار بند ہوگیا ،آفس بھی بند ہوگیا اور دونوں پارٹنرز گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے اور رازداری کی وجہ سےکیس ختم ہونے تک ایک دوسرے کو بھی یہ اطلاع نہ دی کہ کون کہاں ہے۔اس دوران ایک پارٹنر الف نے وہ جس شہر میں بھی تھا اپنا الگ سے وہی کام کاج کیا جو وہ اپنے پارٹنر ب کیساتھ ملکر کرتا تھا ،لیکن اس میں کوئی سورس یا ذریعہ پارٹنر شپ والا استعمال نہیں کیا اور یوں کچھ آمدن حاصل کی۔ پھر کچھ عرصہ بعد وہ کیس ختم ہوگیا تو دونوں پارٹنرز نے مشترکہ کاروبار کا دوبارہ سے آغازکیا۔ سوال یہ ہے کہ روپوشی کے دوران محمد پارٹنر الف نے جو الگ سے کام کرکے آمدن حاصل کی تھی، کیا وہ اس بارے میں پارٹنر ب کو بتانے کا پابند ہے ؟اور کیا وہ اپنی آمدن سے پارٹنر ب کو حصہ دے گا ؟
مسئلہ یہ ہے کہ اب چند سال بعد پارٹنر الف نے اس آمدن سے متعلق پارٹنر ب کو بتایا تو وہ ناراض ہوا اور پارٹنر الف کو منافق کہا کہ مجھے یہ بات بتانی چاہیئے تھی، جبکہ خود پارٹنر ب نے روپوشی کے دنوں میں کیا کیا، کہاں رہا ، آج تک نہیں بتایا۔نا ہی روپوشی سے واپسی پر پارٹنر ب کے پاس جو کاروبار کا مشترکہ روپیہ بطور امانت تھا اس کا کوئی حساب دیا۔ براہِ مہربانی آگاہ فرمائیں۔ والسلام۔
صورتِ مسئولہ میں جب دونوں فریق باہمی پارٹنرشپ کے تحت کاروبار کر رہے تھے، تو اصول یہ ہے کہ شراکت کے دائرہ میں حاصل ہونے والا نفع دونوں کا مشترک ہوتا ہے، البتہ جس زمانہ میں مذکورہ کاروبار عملاً بند ہو گیا، دفتر ختم ہوگیا اور دونوں شرکاء الگ الگ ہوکر روپوش ہوگئے، اور اس دوران باہمی رابطہ اور شراکت کا عملی تسلسل بھی باقی نہ رہا، تو اس مدت میں اگر پارٹنر الف نے اپنے ذاتی وسائل اور مستقل حیثیت سے الگ کاروبار کیا، جس میں مشترکہ سرمایہ، نام یا وسائل استعمال نہیں کیے، تو اس سے حاصل ہونے والی آمدن اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی، اس میں دوسرے شریک ب کا کوئی شرعی حق نہیں ہوگا، اور پارٹنر الف اسےحصہ دینے کاپابندنہیں ہے۔
البتہ شراکت کے زمانہ یا اس کے اختتام کے وقت جو مشترکہ سرمایہ، منافع یا امانت کسی ایک کے پاس ہو، اس کا مکمل حساب دینا اور دوسرے شریک کا حق ادا کرنا شرعاً لازم ہے، اس میں کوتاہی یا ایک دوسرے سے چھپانا جائز نہیں۔جس سےاحترازلازم ہے۔
کما فی شرح المجلۃ للاتاسی رحمہ اللہ: "اذا اشترى احد الشريكين بدراهم نفسه شيئاً لیس من جنس تجارتهما يكون ذلك الشيء له خاصة ليس لشريكه منه حصة الخ" الیٰ قولہ: حاصل هاتين المادتين ان شراء احد شريكي العنان انما يقع للشركة بشرطين -اولها ان يكون في یده من مال الشركة دراهم او دنانير او مكیل او موزون اذا كان المشتري مكيلا او موزونا والا واقع الشراء له خاصة ما لم يرض الآخر بأن يكون للشركة على ما اقتضته عبارة الولوالجية المذكورة في شرح المادة السابقة –الثاني ان يكون ما اشتراه من جنس تجارتهما والا وقع الشراء له خاصة الخ (ج: 4،ص: 399،المادۃ: 1477، مط: اسلامیٰ کوئٹہ)
وفی العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: قال في الفتاوى الرحيمية: سئل في فرس مشتركة كواها أحد الشركاء لعلة بنار بغير إذن من الباقين وبغير معرفة فأدى ذلك إلى هلاكها هل يضمن ما يخصهم؟(أجاب) الشريك أجنبي في نصيب صاحبه فليس له أن يعالج إلا بإذنه صريحا أو دلالة فحيث انتفى الإذن مطلقا لكون المعالجة عملا تتفاوت فيه الناس، يضمن الشريك ما يخص بقية الشركاء يوم التعدي ضمان السراية بطريقه الشرعي اهـ(ج:1، شركة العنان، ص: 86، مط: دار المعرفة)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0