کیا فرماتے ہیں علماء ِکرا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ تین بندوں نے ڈرائی فروٹ اورشہد کا کاروبار شروع کیا ،اس ترتیب سے کہ نفع اور نقصان میں تینوں برابر کے شریک ہوں گے،را س المال کی طرف سے نوے ہزار(90000) ،دوسرے کی طرف سے ایک لاکھ تین ہزار، اور تیسرے کی طرف سے چالیس ہزار (40000)روپے جمع کیا گیا،اس وقت دوکان کی مالیت(673134)روپے ہے ،اور دکان پر موجودہ قرض(656257)روپے ہے ،دوکان کاقرضہ لوگوں پر(61000)ہے،
اب پوچھنا یہ ہے کہ دو بندے اس کاروبار سے نکلنا چاہتے ہیں،اور کاروبار تیسرے کے پاس رہے گا،اب ان دو بندوں کی شریعت کے مطابق نکلنے کی کیا صورت ہو گی ؟دوکان میں ڈیوٹی کی ترتیب یہ تھی کہ صبح 9 بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک ایک اور مغرب سے عشاء تک ،اور دکان کے لئے سودا لانا،اور گاہگ تک پہنچانا دوسرے کے ذمے تھا،اور تیسرے نے ڈیوٹی دینے سے بالکلیہ انکار کیا تھا،اور ایک سال تک شریک کاروبار کیا،لوگوں پر جو قرض ہے،اس قرض کی وصولی کن کے ذمہ ہوگی ،قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت کیجیے ۔
واضح ہو کہ شرکت کے درست منعقد ہونے کے لئےسلیپنگ پارٹنر کے لئے اس کے اصل سرمایہ کے تناسب سے منافع طے کرنا لازم ہے،اس سے زیادہ منافع طے کرنا شرعاً جائز نہیں ،نیز نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے اصل سرمایہ کے تناسب سے نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے ،اس سے زیادہ یا کم کا نہیں ہوتا۔
صورتِ مسؤلہ میں چونکہ مذکور دونوں شرطیں مفقود ہیں،لہذا یہ معاملہ شرعاً درست منعقد نہیں ہوا،بلکہ یہ شرکت شرعاً فاسد ہے، اور شرکت فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ اس کو جلد از جلد ختم کرکے ازسرے نو نیا معاملہ کرنا لازم ہے،نیز شرکتِ فاسدہ میں ہر شریک اپنے اصل سرمایہ کے تناسب سے نفع ونقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے، مذکور کاروبار میں چونکہ نقصان ہوا ہے،لہذا اس نقصان کو پہلے نفع میں سے پورا کیا جائیگا،اگر نفع سے پورا ہو گیا تو ٹھیک ،ورنہ نفع کے علاوہ اصل سرمایہ میں سے اس نقصان کو پورا کیا جائے گا،اور اس صورت میں ہر شریک اپنے اصل سرمایہ کےتناسب سے نقصان کا ذمہ دار ہوگا،چنانچہ جس کا سرمایہ زیادہ ہے،وہ زیادہ نقصان برداشت کرے گا،جس کاسرمایہ کم ہے،تووہ اسی تناسب سے نقصان برداشت کرے گا۔
جبکہ پارٹنر شپ ختم کرنے سے پہلے قرض کی وصولی تو کام کرنے والے پارٹنر زپر لازم تھی،تاہم اب اگر ان دونوں میں سے ایک اس ذمہ داری سے براءت کا اظہار کر لیتا ہے،اور دوسرا اس کو قبول کر لیتا ہے ،تویہ بھی درست ہے۔
کما فی بدائع الصنائع:والوضيعة على قدر المالين؛ لما قلنا، وإن شرطا العمل على أحدهما، فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح؛ جاز، والربح بينهما على الشرط فيستحق ربح رأس ماله بماله والفضل بعمله، وإن شرطاه على أقلهما ربحا لم يجز؛ لأن الذي شرطا له الزيادة ليس له في الزيادة مال.ولا عمل ولا ضمان؛ وقد بينا أن الربح لا يستحق إلا بأحد هذه الأشياء الثلاثةالخ( کتاب الشرکۃ 6 / 63/سعید)۔
وفی رد المحتار، ولو شرطا الربح للدافع أكثر من رأس ماله لا يصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة لكل واحد منهما ربح ماله والوضيعة بينهما على قدر رأس مالهما أبدا هذا حاصل ما في العناية اهـ ما في النهر الخ،قلت: وحاصل ذلك كله أنه إذا تفاضلا في الربح، فإن شرطا العمل عليهما سوية جاز: ولو تبرع أحدهما بالعمل وكذا لو شرطا العمل على أحدهما وكان الربح للعامل بقدر رأس ماله أو أكثر ولو كان الأكثر لغير العامل أو لأقلهما عملا لا يصح وله ربح ماله فقط، الخ.(4/312) ۔
وفی الشامیۃ: (والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال، ولا عبرة بشرط الفضل) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها والأجر بينهما، فالشركة فاسدة والربح للمالك وللآخر أجر مثله، وكذلك السفينة والبيت، ولو لم يبع عليها البر فالربح لرب البر وللآخر أجر مثل الدابةالخ،(4/326)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0