کیا فرماتے میں علمائے کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
زید پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی (PSO) کا تیل اپنے ٹینکروں کے ذریعے مختلف شہروں میں سپلائی کرتا ہے ،اور کمپنی اس کو کرایہ کا دس فیصد پری پیڈ کارڈ کی صورت میں اور بقیہ نو ے فیصد کیش کی صورت میں ادا کرتی ہیں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ایک پری پیڈ کارڈ کی قیمت پچیس سو روپے( 2500) ہوتی ہے، یعنی ایک کارڈ کے ذریعے ۲۵۰۰ روپے کا ڈیزل یا پٹرول گاڑی میں ڈلوایا جا سکتا ہے، لیکن کبھی زید کو نقد کیش کی ضرورت پڑھ جاتی ہے، اور وہ کسی پٹرول پمپ والے کو کارڈ دے دیتا ہے، اور وہ ایک کارڈ کے بدلے ۲۴۰۰ روپے نقد کیش دیتا ہے، اور پھر کمپنی سے ۲۵۰۰ ہی وصول کرتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ 2500 کا کارڈ دیکر 2400کیش وصول کرنا از روئے شریعت جائز ہے یا نہیں ؟ قرآن وسنت اور حوالہ کی روشنی میں جواب دیکر عند الله ماجور ہوں۔
واضح ہو کہ مذکور پری پیڈ کارڈ اس قرض کی رسید ہے جو ڈرائیور کا اپنی خدمات انجام دینے کی صورت میں متعلقہ کمپنی کے ذمہ لازم ہوتا ہے، اب ڈارئیور کا اس کارڈ کو کسی پمپ والے پر بیچنے کی صورت میں قرض کے حوالہ کا بیچنا ہے جو کمی بیشی کی وجہ سے شرعاً سود کے حکم میں داخل ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ کبھی کبھار ڈرائیور کو نقد رقم کی ضرورت پڑ جائے اور کارڈکیش کروانے کے علاوہ ضرورت پوری کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہ ہو تو بوقتِ مجبوری یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ وہ جس پمپ سے گاڑی میں آئل وغیرہ ڈلوائے، اس میں سے کچھ آئل کسی پمپ پر کم و بیش قیمت میں بیچ کر اسے واپس کر دے اور اس کے عوض نقد رقم حاصل کرلے، مگر اس طریقہ کار کو مستقل طور پر سود خوری کیلئے بطور حیلہ استعمال کرنے سے احتراز کرے ۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1