کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں سری لنکا میں رہتا ہوں، یہاں ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ غیر مسلم کے ساتھ سودی لین دین کرنا جائز ہے، آپ قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ غیر مسلم ملک میں غیر مسلم سے سودی معاملہ مسلمان کا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
سود کا لین دین دار الاسلام میں ہو یا دار الحرب میں بہر حال ناجائز وحرام ہے، اگرچہ طرفین رحمہما اللہ سے دار الحرب میں سود لینے کے سلسلہ میں گنجائش بھی منقول ہے، مگر یہ قولِ مفتیٰ بہ نہیں، مفتی بہٖ قول عدم جواز کا ہے۔ لہٰذا سائل کو چاہیے کہ سودی معاملات سے احتراز کرے اور مذکور مفتی صاحب کو بھی چاہیے کہ معتمد قول کے موافق مسائل بیان کرنے کو اپنا شعار بنائے۔
ففی الدر المختار: ولا بين حربي ومسلم) مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار (ثمة) لأن ماله ثمة مباح فيحل برضاه مطلقا بلا غدر خلافا للثاني والثلاثة (و) حكم (من أسلم في دار الحرب ولم يهاجر كحربي) فللمسلم الربا معه خلافا لهما لأن ماله غير معصوم فلو هاجر إلينا ثم عاد إليهم فلا ربا جوهرة. قلت: ومنه يعلم حكم من أسلما ثمة ولم يهاجرا. (5/ 186)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ولا بين حربي ومسلم مستأمن) احترز بالحربي عن المسلم الأصلي والذمي، وكذا عن المسلم الحربي إذا هاجر إلينا ثم عاد إليهم، فإنه ليس للمسلم أن يرابي معه اتفاقا اھ (5/ 186) واللہ أعلم بالصواب!
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1