مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہےکہ ایک شخص جو میرا قریبی دوست تھا، میں نے مشارکت کے لئے پیسے دئیے تھے، اور وقتاً فوقتاً بڑھاتا رہا،اور اس کے ساتھ ان کے دفتر کے لیٹر پیڈ پر بابت مشارکت کی تھی، جس پر ان کے دستخط بھی موجود ہیں، اور کچھ پیسے بینک کے ذریعے ٹرانسفر کئے ہیں ،ان کا ثبوت بھی موجود ہے، اور وہ شخص فوت ہوگیا، اور پیسوں کا ثبوت میرے پاس واٹساپ وائس میسج اور ٹیکسٹ میسج میں بھی موجود ہے ،اور یہ نقد پیسے میں اپنے بھائی جو میرے پیسوں میں شریک نہیں ہے، ان کی موجودگی میں دئے ہیں یعنی وہ گواہ ہے، اور ان کے دفتر میں دو فرضی گواہ اور بھی موجود ہے ،اور مشارکت کا کاغذ ان کے کاروبار کے لیپ ٹاپ میں بھی محفوظ کیا ہے،کیا ان کی کتابت، دستخط، بھائی کی گواہی،اور یہ فرضی گواہ اور یہ وائس میسج اور ٹیکسٹ میسج بطور گواہ ہوسکتے ہیں،بینوا توجروا۔
واضح ہوکہ دستاویزات (کاغذات)اگرحقائق پر مبنی ہوں اور تغیر و تبدل سے محفوظ ہوں اوران دستاویزات کو پختہ ویقینی بنانے کے تمام قانونی تقاضوں کو بھی پورا کیا گیا ہو، اسی طرح بھائی کی گواہی ،جبکہ وہ اس کاروبار میں شریک نہ ہو تو ان کو اپنے دعوی پر ثبوت کےلئے بطور گواہ (دلیل) پیش کرسکتے ہیں، جبکہ ویڈیو ،آڈیو ،وائس ،اور ٹیکسٹ میسج میں آڈٹنگ وغیرہ کا قوی احتما ل موجود ہے جس کی بناء پر ان کو بطور گواہ (دلیل) کے تو پیش نہیں کرسکتے، البتہ دیگر کسی معتبر ذریعہ سے اگر ان کا مبنی برحقیقت ہونا ثابت ہوجائے تو ان کو اپنے دعوی میں بطور ثبو ت پیش کی گئی شہادتوں کی توثیق وتائید کے طور پر پیش کیا جاسکتاہے۔
کما فی العقود الدریۃ: وفي الزيلعي والملتقى آخر الكتاب في مسائل شتى قالوا الكتاب على ثلاث مراتب مستبين مرسوم وهو أن يكون معنونا أي مصدرا بالعنوان وهو أن يكتب في صدره من فلان إلى فلان على ما جرت به العادة فهذا كالنطق فلزم حجة ومستبين غير مرسوم كالكتابة على الجدران وأوراق الأشجار أو على الكاغد لا على الوجه المعتاد فلا يكون حجة إلا بانضمام شيء آخر إليه كالنية والإشهاد عليه والإملاء على الغير حتى يكتبه؛ لأن الكتابة قد تكون للتجربة ونحوها وبهذه الأشياء تتعين الجهة.
وقيل الإملاء بلا إشهاد لا يكون حجة والأول أظهر وغير مستبين كالكتابة على الهواء أو الماء وهو بمنزلة كلام غير مسموع ولا يثبت به شيء من الأحكام وإن نوى(الی قولہ) وفي خزانة الأكمل صراف كتب على نفسه بمال معلوم وخطه معلوم بين التجار وأهل البلد ثم مات فجاء غريم يطلب المال من الورثة وعرض خط الميت بحيث عرف الناس خطه حكم بذلك في تركته إن ثبت أنه خطه وقد جرت العادة بين الناس بمثله حجة اهـ (کتاب الدعویٰ،ج2،ص20،ط: دار المعرفۃ)۔
وفی درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: (يعمل أيضا بسجلات المحاكم إذا كانت قد ضبطت سالمة من الحيلة والفساد على الوجه الذي يذكر في كتاب القضاء) .
يعمل أيضا بسجلات المحاكم الممسوكة بصورة سالمة من الحيلة والفساد، وبتعبير آخر أي من التزوير والتصنيع كما سيبين ذلك في المادة (1814) من كتاب القضاء.
أما إذا لم تكن سجلات المحاكم بريئة من التزوير والتصنيع فيطلب شهود لإثبات مضمونها ويشهد الشهود على مضمون الإعلام الخ (الكتاب الخامس عشر البينات والتحليف، الباب الثاني، الفصل الأول في بيان الحجج الخطية،المادۃ1738،ج4، ص482،ط:دار الجیل)
وفی البدائع: وأما سائر القرابات، كالأخ والعم والخال ونحوهم فتقبل شهادة بعضهم لبعض؛؛ لأن هؤلاء ليس لبعضهم تسلط في مال البعض، عرفا وعادة فالتحقوا بالأجانب الخ(کتاب الشھادۃ، فصل فی شرائط رکن الشھادۃ،ج6،ص272،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الھندیۃ: أما الأول فمنه أن يكون عاقلا وقت التحمل فلا يصح تحملها من مجنون وصبي لا يعقل، وأن يكون بصيرا الخ( کتاب الشھادۃ،الباب الاول،ج3، ص450،ط:ماجدیۃ)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0