السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام سیونگ اکاونٹ کے بارے میں کہ میں نے ناسمجھی میں بینک میں سیونگ اکاونٹ بنایا ہے، سود کی رقم سال کے بعدلگتی ہے، زیادہ تر رقم نکال لیتاہوں، پھر بھی میری رقم حرام ہے؟
سائل نے مذکور اکاؤنٹ اگر سودی بینک میں کھولا ہو ، جیسا کہ سوال سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں واضح ہو کہ سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم کی حیثیت چونکہ قرض کی ہوتی ہے اور قرض پر کوئی بھی مشروط یا معروف نفع حاصل کرنا شرعاً سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا سائل کے لئے کسی بھی سودی بینک میں مذکور اکاونٹ کھلوانا اور اس پر نفع وصول کرنا شرعاً جائز نہیں، چنانچہ سائل پر لازم ہے کہ وہ اس اکاؤنٹ کو فی الفور بند کروائے اور اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے اور اب تک اس اکاؤنٹ سے جتنا بھی نفع حاصل کیا ہے، اس کو بلا نیتِ ثواب فقراء پر صدقہ کرے۔
کما فی صحیح مسلم : لعن رسول اﷲ ﷺ آکل الرباء و موکلہٗ و کاتبہٗ و شاہدیہ و قال ھم سواء(2 /27)۔
و فی معارف السنن : من ملک بملک خبیث و لم یمکنہ الرد الی المالک فسبیلہ التصدق علی الفقراء اھ (1/ 32)۔
وفی رد المحتار : تحت (قولہ کل قرض جر نفعا حرام)ای اذا کان مشروطا اھ (5/ 166 )۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1