کیا قربانی کی جگہ فلسطین کے لوگوں کی مدد کی جاسکتی ہے، مطلب قربانی ان حالات میں جائز ہوگی؟
واضح ہو کہ صاحب نصاب شخص پر ایام عید میں قربانی کر ناشر عا لازم اور ضروری ہے، قربانی کرنے کے بجائے اس رقم کو کسی اور نیک کام میں لگانے سے قربانی کا فریضہ ادانہ ہو گا، بلکہ وہ بدستور ذمہ پر باقی رہے گا، لہذا ن حالات میں بھی صاحب نصاب شخص کو قربانی کرنا لازم ہے، قربانی کے بجائے مذکور رقم فلسطین کے مسلمانوں کی امداد کے لیے بھیجنا درست نہیں، بلکہ قربانی کے علاوہ دیگر صدقات واجبہ اور صدقات نافلہ سے ان کی مدد کی جائے یا اگر یہ صورت مشکل ہو تو قربانی کا جانور کسی معتبر ادارے کے ذریعہ فلسطین میں ہی ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت سے سالن وغیرہ بنا کر اسے وہاں کے لوگوں میں تقسیم کرنے کا انتظام بھی کیا جاسکتا ہے، اس کام کے لیے چند مستند رفاہی ادارے کام کر رہے ہیں، ان کے ذریعہ اس صورت پر عمل پیرا ہوکر فلسطینی باشندگاں کی امداد میں اپنا حصہ شامل کیا جاسکتا ہے۔
کما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (ومنها) أن لا يقوم غيرها مقامها حتى لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزيه عن الأضحية، لأن الوجوب تعلق بالإراقة، والأصل أن الوجوب إذا تعلق بفعل معين أنه لا يقوم غيره مقامه كما في الصلاة والصوم وغيرهما الخ ( ج 5 ص 66 كتاب التضحية، ط: سعيد)۔