السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مسئلہ یہ ہے کہ میرے بڑے بھائی اور میرے چچا کی بڑی بیٹی دونوں نے میری والدہ اور میری چچی سے دودھ پیا ہے، کیا میرے چچا کی بڑی بیٹی کے علاوہ باقی یعنی اس کی چھوٹی بیٹی سے میرا یا میرے بڑے بھائی کے علاوہ چھوٹے بھائیوں کا نکاح ہو سکتا ہے ؟تفصیل کے ساتھ جواب دیں۔
سائل کے جس بڑے بھائی نے مدتِ رضاعت میں اپنی چچی کا دودھ پیا ہے ،وہ اپنی چچی کا رضاعی بیٹا اور اسکی تمام اولاد (چچا زاد بہن بھائیوں) کا رضاعی بھائی بن چکا ہے ، لہذا سائل کے بڑے بھائی کیلئے ، اپنی مذکور چچی کی کسی بھی بیٹی کیساتھ نکاح کرنا جائز نہیں ، اسی طرح سائل کی چچی کی جس بڑی بیٹی نے مدتِ رضاعت میں سائل کی والدہ کا دودھ پیا ہے ، وہ سائل کی والدہ کی رضاعی بیٹی اور اسکی تمام اولاد کی رضاعی بہن بن چکی ہے ، لہذا سائل کی مذکور چچا زاد بیٹی کیلئے سائل اور اسکے کسی بھی بھائی کیساتھ نکاح جائز نہیں ، البتہ اسکے علاوہ دیگر چچا زاد بہن بھائیوں کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنا جائز اور درست ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو۔
کما قال اللہ تعالی: حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ الآیۃ (آیتـ 23 سورہ النسآء)
وفی الدر المختار: (و) حرم (الكل) مما مر تحريمه نسبا، ومصاهرة (رضاعا) إلا ما استثني الخ (کتاب النکاح ج 3 صـ 31 ط: سعید)
وفی الھندیۃ: يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا (إلی قولہ) وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها الخ (کتاب الرضاع ج 1 صـ 343 ط: سعید)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0