السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
محترم جناب مفتی صاحب ! میرا نام محمد عاصم ہے،رہائش پشاور میں ہے،موجودہ دور میں نکاح کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے سائل نے نکاح کرنے کا ارادہ کیا ہےاور اس سلسلے میں اپنے تایا کی چھوٹی بیٹی کا انتخاب کیا ہے،میری امی اور میری چچی آپس میں چچا زاد بھی ہیں،طویل عرصے سے ان کے تعلقات آپس میں اچھے نہیں ہیں اور ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کسی نہ کسی بہانے پرتعلقات کشیدہ رکھے ہیں،میں نے چار سال پہلے اپنے تایا کی بیٹی سے نکاح کا جب اظہار کیا تو معلوم ہوا کہ آپ آپس میں بہن بھائی ہیں،بقول میری امی کے آپ کی چچی نے کافی بار آپ کو دودھ پلایا ہے اور بقول میری چچی کے , کہ میں نے آپ کو ایک بار دودھ دیا ہے،اور بقول دیگر رشتہ داروں کے ان لوگوں کی آپس میں ذاتی دشمنی ہے اور اس شدید نفرت کی وجہ سے یہ کبھی ان دونوں خاندانوں کو نہ ملانے کیلئے جھوٹ بول رہے ہیں،ان دونوں کے بیانات میں بھی اس حوالے سے کافی تضاد پایا جاتا ہے،ہم دونوں بھی ایک دوسرے کو بچپن سے پسند کرتے ہیں اور آج تک ہمارے دلوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ہے کہ اس بات میں صداقت ہے اور ہمارے خاندان کے دیگر بزرگان بھی اس بات کو تسلیم نہیں کر رہے کہ واقعی اس بات میں صداقت ہے،آپ حضرات سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں !
دیگر عقود کی طرح حرمتِ رضاعت کے ثبوت کیلئے بھی شرعی شہادت ضروری ہے،چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائل کی تائی کے علاوہ کوئی گواہ نہ ہو تو فقط دودھ پلانے والی کی گواہی سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی،لہذا سائل کیلئے اپنی تایا زاد بہن سے نکاح ،شادی کرنے کی گنجائش ہے،تاہم اگر تائی کی گواہی پر سائل اور دیگر خاندان کے لوگوں کو یقین ہو تو اس نکاح سے احتراز لازم ہے،ورنہ بہتر تو ضرور ہے۔
کما فی رد المحتار: وإن كذباها وهي عدلة فالتنزه المفارقة والأفضل له إعطاء نصف المهر لو لم يدخل(الیٰ قوله) (قوله وعدلتين) أي ولو إحداهماالمرضعة، ولا يضر كون شهادتها على فعل نفسها لأنه لا تهمة في ذلك كشهادة القاسم والوزان والكيال على رب الدين حيث كان حاضرا بحر قلت: وما في شرح الوهبانية عن النتف من أنه لا تقبل شهادة المرضعة عند أبي حنيفة وأصحابه؛ فالظاهر أن المراد إذا كانت وحدها احترازا عن قول مالك اھ(3/225)۔
وفی الھندیة: وکذلک اذا شھدت امرأتان أو رجل وامرأة أو رجلان غیر عدلین أو رجل وامرأتان غیر عدل کذا فی السراج الوھاج اھ(1/347)۔
وفی الھدایة: ولایقبل فی الرضاع شھادة النساء منفردات وانما یثبت بشھادة رجلین أو رجل وامرأتین اھ (2/304)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0