میں اپنے بیٹے کا رشتہ کرنا چاہ رہی ہوں اور جس لڑکی سے میں رشتہ کرنا چاہتی ہوں کچھ عزیز یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے اس لڑکی کو اپنا دودھ پلایا ہے بچپن میں، جبکہ مجھے نہیں یاد کہ میں نے اسے دودھ پلایا ہے، میں نے صرف اور صرف مذاق سے کہا تھا کہ تمہاری بیٹی رو رہی تھی تو میں نے اسے اپنا دودھ پلا کر چپ کرایا ہے، مگر ایسا کچھ نہیں ہے، اور جب یہ واقعہ ہوا تھا تو میری بیٹی کچھ ماہ پہلے ہوئی تھی ، ہمارے کچھ عزیز کہہ رہے ہیں کہ آپ اس لڑکی کی ماں ہو لہذا آپ رشتہ نہیں کر سکتی، از راہِِ کرم مجھے بتائیں کہ کیا میں اپنے بیٹے کا رشتہ اس لڑکی کے ساتھ کر سکتی ہوں ؟
مذکورہ لڑکی کو دودھ پلانا اگر شرعی شہادت سے ثابت نہ ہو اور خود سائلہ کو بھی یاد نہ ہو تو محض شبہ سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی، اس لئے سائلہ اپنے بیٹے کا نکاح مذکورلڑکی سے کرنا چاہے تو شرعاً جائز ہے ۔
كما في الفتاویٰ الهندية: قليل الرضاع وكثيره اذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية (1/342)
وفي الدر المختار: (مص من ثدى آدمية) (إلى قوله) ( في وقت مخصوص) هو (حولان ونصف عنده وحولان فقط عندهما وهو الأصح۔اھ (3/209)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0