السلام علیکم!
علی کی امی نے اپنی بھانجی کو دودھ پلایا ہے یا نہیں انکو یاد نہیں، لیکن علی کی امی نے اپنی بہن کو کہا کہ میں نے دودھ پلایا ہے ، اب مزاح میں کہا یا سچ یہ یاد نہیں تو کیا اب علی کا اسکی خالہ کی بیٹی سے نکاح ہو سکتا ہے ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کریں، اور ایک حدیث بھی بیان کریں۔شکریہ
”علی“ کی والدہ کو اگر اپنی بھانجی کو دودھ پلانا یاد نہ ہو اور نہ ہی اسکے متعلق خاندان کے دیگر افراد کو علم ہو تو ایسی صورت میں محض شک کی بنا پر حرمتِ رضاعت ثابت نہ ہوگی، لہذا ”علی“ کا اپنی خالہ زاد بہن سے نکاح کرنا جائز اور درست ہے۔
کما في در المحتار: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك. ثم قال: والواجب على النساء أن لا يرضعن كل صبي من غير ضرورة، وإذا أرضعن فليحفظن ذلك وليشهرنه ويكتبنه احتياطا۔اھ (3/212)
وفي الفتاویٰ الهندية: المرأة إذا جعلت ثديها في فم الصبي ولا تعرف أمص اللبن أم لا ففي القضاء لا تثبت الحرمة بالشك وفي الاحتياط تثبت۔اھ (1/344)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0