1 - شوہر نے اپنے بیوی کا دودھ نگل لیا تو کیا حکم ہے ؟
2- مدّتِ رضاعت کے بعد بچہ دودھ پی لے تو کیا حکم ہے ؟
3- کیا سعودی یا دوبئی میں رہنے والا موبائل فون پر نکاح کر سکتا ہے ؟
4- جڑواں بہنوں کا نکاح کس طرح ہو گا دونوں کا نکاح دو الگ مردوں سے ہو گا یا ایک ہی مرد سے؟
5- ایک شخص کا کہنا ہے کہ طلاق عدالت میں بولنے سے ہوتی ہے گھر میں طلاق بولنے سے نہیں ہوتی , کیا ہے صحیح ہے
(1)شوہر کیلئے بیوی کے پستان دبانا یا منہ میں لینا تو شرعاً جائز ہے،البتہ اس دوران اگر دودھ منہ میں آجائے تو اس کا نگلنا ناجائز اور حرام ہے ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ، تاہم اگر کسی نے یہ دودھ نگل لیا ہو تو سخت گناہ گار ہوا ہے ، اسے چاہیئے کہ اس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے،اور آئندہ اس عمل سے اجتناب کرے۔
(2)مدتِ رضاعت کے بعد کسی بچہ کو بلاعذر دودھ پلانا جائز نہیں ہے، تاہم مدتِ رضاعت کے بعد دودھ پلانے سے رضاعت ثابت نہیں ہوگی -
(3)واضح ہو کہ نکاح کے شرعاً درست منعقد ہونے کیلئے دو عاقل بالغ گواہوں کا مجلسِ نکاح میں موجود ہونا شرط ہے ، جو کہ ایجاب و قبول کو سنیں، جبکہ فون پر یہ شرط مفقود ہوتی ہے، اس لئے یہ نکاح درست نہ ہوگا ،البتہ نکاح کرنے والا مجلسِ نکاح میں موجود افراد میں سے کسی کو اپنے نکاح کا وکیل بنادے ، اور وکیل اس شخص کی طرف سے گواہوں کے سامنے قبول کرلے تو یہ نکاح منعقد ہوجائے گا۔
(4)اگر دو جڑواں بہنیں اس طور پر جڑی ہوئی ہوں کہ ان کو علیحدہ کرنا مشکل ہو تو ان کے ساتھ کسی کے نکاح کی صورت میں ستر وغیرہ کا اہتمام نہیں ہوسکتا ، جبکہ دو بہنوں سے کسی ایک شخص کا نکاح کرنا بھی درست نہیں ہے،اس لئے دو جڑواں بہنوں سے کسی مرد کا نکاح جائز نہیں ہے،ان بہنوں کو چاہیئے کہ صبر کے ساتھ زندگی گزاریں۔
(5)واضح ہوکہ عدالت میں طلاق دینا کوئی ضروری نہیں ہے ، بلکہ طلاق جس حالت میں بھی دی جائے طلاق واقع ہوجاتی ہے -
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0