السلام علیکم !
ہماری شادی وٹہ سٹہ پر ہوئی ہے، اللہ تعالٰی نے اولاد نرینہ عطاء فرمائی ، سب سے بڑی بیٹی پیدا ہوئی اور سسٹر کو بھی اللہ نےبیٹی عطاء فرمائی، سسٹر کو دودھ جاری نہیں ہوا، اب میری بیٹی اور سسٹر کی بیٹی نے ایک ماں کا دودھ پیا ہے، اس کے علاوہ کسی بچی یا بچے نے اپنی پھوپھی کا دودھ نہیں پیا ، اس کے بعد ہمیں اللہ نے دوسری بیٹی عطاء فرمائی، اور سسٹر کو بیٹا عطاء کیا ، کیا دوسرے بچوں کا آپس میں نکاح ہوسکتا ہے؟ راہنمائی فرمائیں ، جزاک اللہ
سائل کی جس بھانجی نے مدت رضاعت میں اپنی پھوپھی ( سائل کی بیوی) کا دودھ پیا ہےتو وہ بھانجی سائل کی رضاعی بیٹی بن گئی، لہذا مذکور بھانجی کا نکاح تو سائل کے کسی بیٹے سے نہیں ہو سکتا، البتہ اس کے علاوہ باقی بھانجے بھانجیوں کا نکاح سائل کی اولاد کے ساتھ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو۔
کمافی الدر المختار:(هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي اھ (ج3،ص3-4 ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: (وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر (و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى اھ (ج3،ص3-4 ط:سعید)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0