کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون مسماۃ شازیہ بی بی نے اپنی بھانجی مسماۃ سونیا کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلایا تھا،اب مسماۃ شازیہ بی بی سونیا کا رشتہ اپنے بیٹے شیراز کے ساتھ کرنا چاہتی ہے، تو معلوم کرنا ہے کہ مسماۃ سونیا کا رشتہ شازیہ بی بی کے کسی بھی بیٹے کیساتھ جائز ہے کہ نہیں ؟
صورتِِ مسئولہ میں جب مذکورہ خاتون مسماۃ شازیہ بی بی نے اپنی بھانجی مسماۃ سونیا کو مدتِ رضاعت میں دودھ پلایا ہے تو مسماۃ سونیا اپنی خالہ مسماۃ شازیہ بی بی کی رضاعی بیٹی اور مذکور خالہ کی تمام أولاد کی رضاعی بہن بن چکی ہے،لہٰذا مسماۃ سونیا کا نکاح مسماۃ شازیہ بی بی کے کسی بھی بیٹے کیساتھ شرعاً درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار (و) حرم (الكل) مما مر تحريمه نسبا ، و مصاهرة (رضاعا) إلا ما استثني في بابه اھ(3/31)-
و فی النهر الفائق :(و) حرم أيضا تزوج (الكل) أي جميع ما ذكر تحريم تزوجه نسبا ، (رضاعا) أي من جهة الرضاع لما أخرجه الترمذي من قوله صلى الله عليه و سلم : (يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب) و المناسب في معنى من هنا أن تكون للسببية و لم يستثن شيئا إحالة على ما سيأتي في الرضاع و سنستوفيه ثمة إن شاء الله تعالى اھ(2/188)-
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0