السلام علیکم !
حضرت مجھ سے ایک عورت کے ساتھ زنا ہوگیا تھا ,جو طلاق شدہ تھی اور زنا کے دوران دودھ کے قطرے میرے منہ کے اندر آگئے تھے جو میں نے نکال دیے تھے ، لیکن مجھے شک ہے , یقین نہیں ہے کہ وہ میرے پیٹ میں گئے تھے یا نہیں ، لیکن کچھ عرصے بعدمیں نے اس عورت سے شادی کرلی ، اب مسئلہ یہ ہے کہ میرا نکاح ہوا ہے یا نہیں ؟ سر معذرت کے ساتھ مجھے پتہ ہے کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی تھی لیکن ابھی ہم ساتھ رہتے ہیں اگر نکاح نہیں ہوا ہے تو اس کا حل مجھے بتائیں۔
سائل اور اس کی بیوی ، نکاح سے قبل زنا جیسے بدترین جرم کے ارتکاب کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوئے ہیں ، اگر اسلامی قانون نافذ العمل ہوتا اور شرعی شہادت سے زنا کا ثبوت ہوجاتا تو ان دونوں پر شرعی حد جاری کی جاتی ، اس لئے سائل اور اس کی بیوی پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں ، جبکہ زنا کے دوران دودھ کے قطرے سائل کے منہ میں آنے اور اس کو نگلنے کی وجہ سے دونوں کے درمیان حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوئی ، لہٰذااگر سائل نے مذکور عورت کے ساتھ , طلاق کی عدت گزرنے کے بعد باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیا ہو تو یہ نکاح شرعاً بھی درست منعقد ہوچکا ہے ، تاہم شوہر کے لئے بیوی کے دودھ کے قطرات نگلنا چونکہ شرعاً جائز نہیں اس لئے آئندہ کے لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار : (ويثبت التحريم) في المدة فقط (الی قولہ) (و لم يبح الإرضاع بعد مدته) لأنه جزء آدمي و الانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية الخ۔(کتاب الرضاع ج 3 ص 211 ط۔ سعید)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0