میری بیوی کے بھانجے نے کھیلتے کھیلتے دودھ منہ میں ڈال لیا ، اور دودھ اس کے منہ میں چلا گیا ، کیا میرے بچے اس کے رضاعی بہن بھائی بن گئے ہیں ؟
صورت مسئولہ میں اگر سائل کے نسبتی بھائی کے بیٹے نے مدت رضاعت میں سائل کی بیوی کا دودھ پی لیا ہو ، تو وہ سائل اور اس کی بیوی کا رضاعی بیٹا بن گیا ہے ، اور سائل کی اولاد اس کے رضاعی بہن بھائی بن گئے ہیں ، لہذا سائل کی بیٹی کا مذکور لڑکے (رضاعی بھائی ) کے ساتھ شرعاً نکاح حرام ہے ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: حرّمت علیکم اُمھٰتکم وبنٰتکم واخوٰتکم وعمٰتکم وخٰلٰتکم وبنٰت الاَخ وبنٰت الاُخت واُمّھٰتکم الّٰتی ارضعنکم واخوٰتکم مّن الرّضاعۃالخ (سورۃ النساء ایۃ 23 )۔
وفی الھدایۃ : قال قلیل الرضاع وکثیرہ سواء اذا حصل فی مدۃ الرضاع یتعلق بہ التحریم (الی قولہ )ولنا قولہ تعالی وامھاتکم اللاتی ارضعنکم الایۃ، و قولہ علیہ السلام یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب الخ (ج 1ص369 کتاب الرضاع ط رحمانیۃ) ۔
وفی الدر المختار (و یثبت بہ) ولو بین الحربیین بزازیہ (وإن قل ) الخ (ج3 ص212 باب الرضاع ط سعید ) ۔ واللہ اعلم
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0