السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
ایک سوال یہ ہے کہ حدیث شریف میں ہے: " کل شئ ما ورد فیہ النص بالکیل فھو کیلي أبدا وإن ترک الناس فیہ الکیل " اس کا صحیح مطلب کیا ہے ؟ اور اگر کوئی شخص مثلا گندم کو وزن کے اعتبار سے تفاضل کے ساتھ بیچ رہا ہو تو اس حدیث کی روسے جائز ہونا چاہیئے اور اگر کسی اور دلیل کی وجہ سے ہم اس کو ناجائز قرار دیں تو اس حدیث کا کیا جواب ہوگا ؟ براہ مہربانی اپنے قیمتی اوقات میں سے تھوڑا وقت نکال کر اس کی وضاحت فرماکر ممنون فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا احسن الجزاء
سائل نے سوال میں جو عبارت ذکر کی ہے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارک نہیں، بلکہ فقہا ء کرام رحمہم اللہ کی ذکر کردہ ایک فقہی عبارت ہے، اور اس عبارت کا وہ مفہوم اور مطلب نہیں جو سائل نے اس سے اخذ کیا ہے کہ اگر مثلا گندم کا گندم کے سا تھ و زن کے اعتبار سے تبادلہ کیا جائے تو اس میں تفاضل اور کمی بیشی جائز ہے، بلکہ عبا رت کا مقصد" کیلی " اور "وزنی" اشیاء کی تحدید اور تعیین کرنا ہے کہ کونسی چیزیں کیلی ہیں اور کونسی چیز وزنی ؟ چنانچہ فقہاء کرام رحمھم اللہ کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ میں جن چیزوں کے کیلی ہونے کی تصریح ہے وہ ہمیشہ کیلی اور جن چیزوں کے وزنی ہونے کی تصریح ہے وہ ہمیشہ وزنی رہیں گی، اگر چہ لوگوں نے کیل اور وزن کے ساتھ اس کا تبادلہ ترک کر دیا ہو ، چنانچہ احادیثِ مبارکہ میں وارد "کیلی " چیزوں میں کیل کے اعتبار سے اور وزنی چیزوں میں وزن کے اعتبار سے مساوات اور برابری لازم اور ضروری ہوگی ، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ کسی چیز کے کیلی یا وزنی ہونے کا مدار عرف پر ہے ، چنانچہ عرف میں جن چیزوں کا تبادلہ کیل کے اعتبار سے ہوتا ہو ، وہ کیلی اور جن کا تبادلہ وزن کے اعتبار سے ہوتا ہے وہ وزنی شمار ہونگی ، اور اس کے مطابق اس میں کمی بیشی کی اجاز ت نہ ہوگی، مزید تفصیل کے لئے کتب فقہ کی طرف مراجعت کی جا سکتی ہے۔
كما في صحيح مسلم : عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « الذهب بالذهب، والفضة بالفضة، والبر بالبر، والشعير بالشعير، والتمر بالتمر، والملح بالملح، مثلا بمثل، سواء بسواء، يدا بيد، فإذا اختلفت هذه الأصناف، فبيعوا كيف شئتم، إذا كان يدا بيد ( باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدا، ج 5، ص 44، رقم : 1587، ط : دار الطباعة العامرة، تركيا)-
و في الهداية : قال : "وكل شيء نص رسول الله صلى الله عليه وسلم على تحريم التفاضل فيه كيلا فهو مكيل أبدا، وإن ترك الناس الكيل فيه مثل الحنطة والشعير والتمر والملح وكل ما نص على تحريم التفاضل فيه وزنا فهو موزون أبدا، وإن ترك الناس الوزن فيه مثل الذهب والفضة" لأن النص أقوى من العرف والأقوى لا يترك بالأدنى "وما لم ينص عليه فهو محمول على عادات الناس" لأنها دلالة الخ ( باب الربا، ج 3، ص62، ط : دار إحياء التراث العربي، بيروت)-
و في فتح القدير : (قوله وكل شيء نص رسول الله صلى الله عليه وسلم على تحريم التفاضل فيه كيلا فهو مكيل أبدا، وإن ترك الناس الكيل فيه) حتى لا يجوز بيعه وزنا وإن تماثلا في الوزن إلا إن علم أنهما متماثلان في الكيل أيضا (وكل ما نص على تحريم التفاضل فيه وزنا فهو موزون أبدا مثل الذهب والفضة لأن النص أقوى من العرف) لأن العرف جاز أن يكون على باطل كتعارف أهل زماننا في إخراج الشموع والسرج إلى المقابر ليالي العيد، والنص بعد ثبوته لا يحتمل أن يكون على باطل، ولأن حجية العرف على الذين تعارفوه والتزموه فقط، والنص حجة على الكل فهو أقوى، ولأن العرف إنما صار حجة بالنص وهو قوله صلى الله عليه وسلم «ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن ( باب الربا، ج 7، ص14، ط : دار الفكر، بيروت)-
وفي الفتاوى الهندية : وكل شيء نص رسول الله صلى الله عليه وسلم على تحريم التفاضل فيه كيلا فهو مكيل أبدا وإن ترك الناس الكيل فيه مثل الحنطة والشعير والتمر والملح وكل شيء نص على تحريمه وزنا فهو موزون أبدا وإن ترك الناس الوزن فيه مثل الذهب والفضة كذا في السراج الوهاج وما لا نص فيه ولكن عرف كونه كيلا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو مكيل أبدا وإن اعتاد الناس بيعه وزنا في زماننا وما عرف كونه موزونا في ذلك الوقت فهو موزون أبدا وما لا نص فيه ولم يعرف حاله على عهد رسول الله عليه الصلاة والسلام يعتبر فيه عرف الناس فإن تعارفوا كيله فهو كيلي وإن تعارفوا وزنه فهو وزني وإن تعارفوا كيله ووزنه فهو كيلي ووزني وهذا كله قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - كذا في المحيط. فعلى هذا لو باع البر بجنسه متساويا وزنا أو الذهب بجنسه متساويا كيلا لم يجز عندهما وإن تعارفوا ذلك كذا في الكافي. فلو باع المكيل وزنا أو الموزون كيلا لا يجوز وإن تساويا فيما بيعا به حتى يعلم تساويهما بالأصالة كذا في النهر الفائق. قال الشيخ الإمام وأجمعوا على أن ما ثبت كيله بالنص إذا بيع وزنا بالدراهم يجوز وكذلك ما ثبت وزنه بالنص إذا بيع كيلا بالدراهم يجوز كذا في الذخيرة ( الفصل السادس في تفسير الربا وأحكامه، ج 3، ص 117، ط : دار الفكر، بيروت)-