کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
ا۔ عورت تبلیغ کر سکتی ہے یا نہیں؟ اگر کر سکتی ہے تو شریعت نے اس کو کن شرائط کے ساتھ اجازت دی ہے؟
۲۔ عورتوں کا قبرستان میں جانا کیسا ہے؟ اور کسی بزرگ کے قبر پر حاضری دینا جائز ہے یا نہیں؟
۱۔ عورت کو بھی اگر مسئلہ شرعیہ کا صحیح علم ہو تو وہ اسے دوسری خواتین وغیرہ کے سامنے بیان کر سکتی ہے اور یہی اس کی تبلیغ ہے، اور اگر سائل کی مراد عورت کے مروّجہ طریقہ تبلیغ میں شمولیت سے متعلق حکمِ شرعی معلوم کرنا ہو تو اس سلسلہ میں جامعہ بنوریہ سے جاری شدہ فتوے کی فوٹو کاپی منسلک ہے۔
۲۔ عورت اگر پردہ شرعی کو ملحوظ رکھتے ہوئے محرمِ شرعی کی معیت میں قبرستان چلی جائے اور وہاں جاکر بھی جزع فزع اور اس کے علاوہ کسی غیر شرعی اَمر کا ارتکاب نہ کرے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، جبکہ فسادِ زمانہ کی وجہ سے اس سے بھی احتراز بہتر ہے۔
ففی الدر المختار: وبزيارة القبور ولو للنساء لحديث «كنت نهيتكم عن زيارة القبور ألا فزوروها» اھ(2/ 242)
و فی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: ولو للنساء) وقيل: تحرم عليهن. والأصح أن الرخصة ثابتة لهن بحر، وجزم في شرح المنية بالكراهة لما مر في اتباعهن الجنازة. وقال الخير الرملي: إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز، وعليه حمل حديث «لعن الله زائرات القبور» وإن كان للاعتبار والترحم من غير بكاء والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز. ويكره إذا كن شواب كحضور الجماعة في المساجد اهـ وهو توفيق حسن اھ (2/ 242)
وفی مرقاة المفاتيح: قال النووي: وأجمعوا على أن زيارتها سنة لهم، وهل تكره للنساء؟ وجهان: قطع الأكثرون بالكراهة، ومنهم من قال: لا يكره إذا أمنت الفتنة الخ (4/ 1255) واللہ أعلم بالصواب!