کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حضور ﷺکی حدیث ’’طلب العلم فریضۃ الخ‘‘ کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ، زید ایک مدرسے میں علومِ دینیہ حاصل کر رہا ہے، جبکہ زید کے گھر کی مالی حالت درست نہیں ہے، ایک والد ہے جو اب مزید کام کاج کا نہیں رہا۔
تو اس صورت میں زید کو اپنے والدین کا ہاتھ بٹانا چاہیے یا حصولِ علمِ دین کی کوشش میں لگا رہے؟ اگر اپنے والدین کا ہاتھ بٹائے تو زید کا یہ عمل حدیث کے خلاف تو نہیں؟ واضح رہے کہ زید کو علمِ دین حاصل کرنے کا بہت شوق ہے مفصل جواب دیکر مشکور فرمائیں۔
دین اپنے دل کے شوق کو پورا کرنے کا نام نہیں، بلکہ موقع و محل کے، حکمِ خداوندی کو نبی کریم ﷺ کے طریقہ کے مطابق پورا کرنے کا نام دین ہے، اسی طرح موجودہ ترتیب کے مطابق باضابطہ درسِ نظامی کا نصاب پورا کرنا بھی فرض اور واجب نہیں، بلکہ روزمرّہ کی زندگی سے متعلق ضروری علم کا حاصل کرنا فرض و واجب ہے ، پس اگر سائل اتنی مقدار تک علم حاصل کر چکا ہو تو مزید علم کے لیے والدین سے اجازت ضروری ہے، اگر وہ بخوشی اجازت دیدیں تو بلاشبہ وہ علمِ دین حاصل کر سکتا ہے، مگر اس کی وجہ سے والدین کی خدمت کا فریضہ اس پر سے ساقط نہیں ہوگا، لہٰذا اگر والدین کی خدمت کے لیے کوئی دوسرا بھائی وغیرہ موجود نہ ہو تو اس صورت میں شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ والدین کی اجازت سے قریب کے کسی مدرسہ و غیرہ میں یہ نصاب مکمل کر لے، تاکہ والدین کی خدمت کی سعادت بھی ہاتھ سے نہ جائے اور علمِ دین بھی حاصل ہوجائے۔
ففی الدر المختار: و اعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين و هو بقدر ما يحتاج لدينه. و فرض كفاية، و هو ما زاد عليه لنفع غيره. و مندوبا، و هو التبحر في الفقه و علم القلب. (1/ 42)۔
و فیه أیضاً: و له الخروج لطلب العلم الشرعي بلا إذن والديه لو ملتحيا و تمامه في الدرر۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله و له الخروج إلخ) أي إن لم يخف على والديه الضيعة بأن كانا موسرين، و لم تكن نفقتهما عليه. و في الخانية: و لو أراد الخروج إلى الحج و كره ذلك قالوا إن استغنى الأب عن خدمته فلا بأس، و إلا فلا يسعه الخروج، فإن احتاج إلى النفقة و لا يقدر أن يخلف لهما نفقة كاملة أو أمكنه إلا أن الغالب على الطريق الخوف فلا يخرج، و لو الغالب السلامة يخرج. و في بعض الروايات لا يخرج إلى الجهاد إلا بإذنهما و لو أذن أحدهما فقط لا ينبغي له الخروج، لأن مراعاة حقهما فرض عين و الجهاد فرض كفاية، (إلی قولہ)هذا في سفر الجهاد، فلو في سفر تجارة أو حج لا بأس به بلا إذن الأبوين إن استغنيا عن خدمته إذ ليس فيه إبطال حقهما إلا إذا كان الطريق مخوفا كالبحر فلا يخرج إلا بإذنهما و إن استغنيا عن خدمته و لو خرج المتعلم وضيع عياله يراعى حق العيال اهـ(6/ 408)۔