متفرقات

گھر کے قریب مدرسے -سکول سےتلاوتِ قرآن سنائی دینے کی صورت کے احکامات

فتوی نمبر :
60832
| تاریخ :
2005-04-01
آداب / تعلیم و تعلم / متفرقات

گھر کے قریب مدرسے -سکول سےتلاوتِ قرآن سنائی دینے کی صورت کے احکامات

کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے گھر کے بالمقابل ایک انگلش میڈیم سکول ہے، جس میں قرآن کی تعلیم بھی دی جاتی ہے، وہ میرے اہلِ خانہ کے لیے تکلیف کاسبب ہے، اس میں بچوں کو دورانِ تعلیم سبق بہت شور اور زوردار آواز میں پڑھایاجاتا ہے ، شور وقت بے وقت شروع ہو جاتا ہے، جس سے میرے گھر کے سکون و آرام میں خلل پڑتا ہے، مہتمم مدرسہ سے ملاقات کی ہے جس سے اندازہ ہوا کہ شاید وہ اس سلسلہ میں کچھ بھی کرنے کےلیے آمادہ نظر نہیں آتے،بلکہ سکول مزید توسیع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
1۔قرآن پاک کی تعلیم کے وقت سبق اور زوردار آواز میں پڑھایا جاتا ہے، جبکہ حکم کچھ اس طرح ہے کہ’’ مومنوں جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو‘‘۔
2۔ سجدۂ تلاوت پر بھی بچوں کی آواز بلند ہوتی ہے۔
3۔درود شریف بھی باآواز بلند یاد کرائے جاتے ہیں۔
معلوم یہ کرنا ہےکہ درجِ بالا حالات کے ہوتے ہوئے آیا میرے اہلِ خانہ عدم ِتوجّہی سے کام لیں، یعنی سبق کے دوران تلاوت کی آواز سنی اَن سنی کر دیں، جو ناممکن ہے، سجدۂ تلاوت سن کر سجدہ نہ کریں اور درود شریف کے سبق کے دوران نامِ مبارک سن کر درود شریف نہ پڑھیں تو گنہگار تو نہیں ہونگے؟ اس صورتِ حال میں اہلِ خانہ اور دوسرے ہمسایہ پر کیا فرائض عائد ہوتی ہیں؟ اور یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا گھر بیت الخلاء کی دیوار کے بالکل ساتھ ہے۔
4۔مدرسہ بالمقابل ہے تو حقِ ہمسائیگی کس طرح ادا کیا جائے؟ یہاں بہ بات بھی بتانا ہے کہ مدرسہ کا مہتمم صاحب ماشاءاللہ مخلص اور محنتی نوجوان ہے، اسی طرح زیادہ تر تدریسی عملہ بھی استانیوں اور غیر شادی شدہ اساتذہ پر مشتمل ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کےپڑوس میں مدرسہ ہے یا سکول؟ اس کی تحریر سے واضح نہیں ہو سکا، اگر مدرسہ ہے تو مدرسوں میں پڑھائی کا عمومی مزاج یہ ہے کہ ابتدائی کلاس کے بچوں کو تو بعض دعائیں ، نماز کا سبق اور کلمے وغیرہ بآواز بلند پڑھائے جاتے ہیں اور اس میں فقط ایک ہی آدمی کی آواز ہوتی ہے جو عموماً درسگاہ سے باہرکم سنائی دیتی ہے اور اس میں آیتِ سجدہ کا بھی مسئلہ نہیں ہوتا، اس لیے سائل کا اعتراض کوئی معنیٰ نہیں رکھتا، لہٰذا اُسے اس قسم کے اعتراضات کرنے سے احتراز چاہیے۔
تاہم اگر سائل کے تمام اعتراضات کو درست بھی تسلیم کر لیا جائے تو اس سلسلہ میں اولاً تو متعلقہ ادارہ والوں پر لازم ہے کہ ان امور پر توجہ دیں اور تعلیمی اوقات میں طلبہ کو درس کے دوران،آواز اتنی اونچی کرنے سے منع کریں ، جوہلڑ بازی کی صورت اختیار کر کے دوسرے کی اذیت کا باعث ہو، مگر اس دوران سنی جانے والی آیتِ کریمہ کا اگر آیتِ سجدہ سے ہونا معلوم ہوجائے تو اس پر سجدہ تلاوت بہرحال لازم ہوگا، جبکہ بار بار آپ علیہ السلام کا نام مبارک سننے سے فقط ایک مرتبہ ہی درود پڑھنا لازم ہوگا ہر بار نہیں۔ اور یہ امور بھی اتنی پریشانی و اضطرابی کا باعث نہیں جتنی سائل نے اپنے سوال میں بیان کی ہے۔ نیز پڑوس جانبین سے ثابت ہوتا ہے نہ کہ جانبِ واحد سے،اور اگر سائل کسی شادی لان، سنیما ہال اور میوزک سینٹر کا پڑوسی ہوتا تو اس وقت اس کا کیا رویہ ہوتا؟ کیا نیک و صلحاء لوگوں کا پڑوس محمود اوردیگر کا مذموم نہیں، لہٰذا جانبین کو چاہیے کہ ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے اوقات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مسند ابی یعلی: حدثنا أبو نصر التمار حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد و يونس بن عبيد و حميد عن أنس : قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم - : المؤمن من أمنه الناس و المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده و المهاجر من هجر السوء و الذي نفسي بيده لا يدخل عبد الجنة لا يأمن جاره بوائقه اھ(7/199)۔
وفی الفتاوی الھندية: والسجدة واجبة في هذه المواضع على التالي والسامع سواء قصد سماع القرآن أو لم يقصد كذا في الهداية اھ( 1/132)۔
وفی الدر المختار: (واختلف) الطحاوي والكرخي (في وجوبها) على السامع والذاكر (كلما ذكر) - صلى الله عليه وسلم - (والمختار) عند الطحاوي (تكراره) أي الوجوب (كلما ذكر) ولو اتحد المجلس في الأصح لا لأن الأمر يقتضي التكرار، بل لأنه تعلق وجوبها بسبب متكرر وهو الذكر، فيتكرر بتكرره وتصير دينا بالترك، فتقضى لأنها حق عبد كالتشميت بخلاف ذكره تعالى (والمذهب استحبابه) أي التكرار وعليه الفتوى؛ والمعتمد من المذهب قول الطحاوي، كذا ذكره الباقاني تبعا لما صححه الحلبي وغيره ورجحه في البحر بأحاديث الوعيد: كرغم و إبعاد و شقاء و بخل و جفاء، ثم قال: فتكون فرضا في العمر، وواجبا كلما ذكر على الصحيح، وحراما عند فتح التاجر متاعه ونحوه، وسنة في الصلاة، ومستحبة في كل أوقات الإمكان، ومكروهة في صلاة غير تشهد أخير اھ(1/518)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60832کی تصدیق کریں
0     520
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • سورۃ فاتحہ کے مکمل ہونے پر آمین کہنا

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات 0
  • CoEducation-مخلوط تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   متفرقات 1
  • غیر مسلم ملک میں پڑھائی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات 0
  • شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا بطور کرامت بیک وقت مختلف مقامات میں موجود ہونا

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات 0
  • ماہواری میں قرآن چھوئے بغیر انٹر نیٹ سے قرآن حفظ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   متفرقات 0
  • استاد کا خود کرسی پر بیٹھ کر زمین پر بیٹھے قرآن پڑھنے والے طلباء کو پڑھانا

    یونیکوڈ   متفرقات 1
  • عورت کے لیے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا

    یونیکوڈ   متفرقات 1
  • فقہ حنفی اور فتویٰ کی مستند کتابیں

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • میت کی اولاد اور اس کے اعزہ و اقرباء کے علاوہ کا اس کے لۓ ایصالِ ثواب کرنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • اولیاء اللہ سے گناہ سرزد ہونا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • مسلمان لڑکی کا قادیانی بچوں کو انکے گھر میں پڑھانے جانا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • عورت کے فتوے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • وہ شخص جس کے مرنے سے درختوں اور جانوروں تک کو سکون ملتا ہے

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • ’’ض‘‘ کے مخرج سے متعلق متعدد سوالات

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • گھر کے قریب مدرسے -سکول سےتلاوتِ قرآن سنائی دینے کی صورت کے احکامات

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • عورت کا تبلیغ کرنا , عورت کا قبرستان جانا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • مسجد میں فضائلِ اعمال کی تعلیم اور درسِ قرآ ن کے سلسلے میں تقابل و ٹکراؤ کی فضا بنانا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • امام ابوحنیفہؓ کی کتب

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • قبر پر پانی ڈالنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • زیرِ ناف بال کاٹنے کی حدود

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • عورت کی مختلف خصلتوں کی بناء پر ، مختلف تشبیہات

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • ’’الرحمٰن میڈیکل کلینک‘‘ نام رکھنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • علم ابجد یا علم نجوم والوں سے غیب اور مستقبل کا پوچھنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • والدین کے محتاجِ خدمت ہونے کی صورت میں ،طلبِ علم کیلۓ نکلنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • بروز جمعرات ارواح کا گھروں میں آنا -نمازِ جنازہ کے بعد مکرر اجتماعی دعا-شہر کی متعدد مساجد میں قیامِ جمعہ

    یونیکوڈ   متفرقات 0
Related Topics متعلقه موضوعات