کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شریعت میں عورت کو ، اس کی عادات کی وجہ سے کس چیز کے ساتھ مشابہ قرار دیا گیا ہے؟
عورت کے اخلاق ، عادات ،و مزاج اور فطرت کی بناء پر ، مختلف مواقع میں اسے مختلف اشیاء کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ، مثلاً افزائشِ نسل کے اعتبار سے کھیتی کے ساتھ ، مزاج اور فطرت کے اعتبار سے پسلی کے ساتھ ، اس کے اخلاق و عادات کی اچھائی اور نیکوکار ہونے کے اعتبار سے ، خیر متاع الدنیا کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ، لہٰذا سائل اگر اس سے بھی ہٹ کر کسی خاص تشبیہ کے بارے میں معلوم کرنا چاہتا ہو ، تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر مکرر سوال کرلیا جائے۔
قال الله تعالي :﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَ قَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ وَ اعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلَاقُوهُ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [البقرة: 223]۔
و في الصحيح لمسلم : حدثنا عمرو الناقد و ابن أبي عمر (و اللفظ لابن أبي عمر) قالا حدثنا سفيان عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إن المرأة خلقت من ضلع لن تستقيم لك على طريقة ، فإن استمتعت بها استمتعت بها و بها عوج و إن ذهبت تقيمها كسرتها و كسرها طلاقها اھ(2/ 1090)۔
و في صحيح ابن حبان : قال : (إن الدنيا كلها متاع و خير متاع الدنيا المرأة الصالحة) اھ (9/ 340)۔