کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مُردوں کے لیے دعا اور خیرات وہ چیزیں ہیں جو ان کی اولاد ان کے لیے کرتی ہے تاکہ مُردہ لوگوں کی بخشش ہو سکے اور انکو اجر ملے ، سوال یہ ہے کہ اگر کسی مُردہ شخص کی اولاد نہیں ہے ، یا ہےلیکن دعا وخیرات نہیں کرتی، تو کیا اس کے پوتے نواسے نواسی، پوتی وغیرہ اس کے لیے دعا و خیرات کر سکتے ہیں؟ اور کیا اس کا ثواب اور اجر ان کو ملے گا؟
ایصالِ ثواب کرنے والے کےلیے شرعاً میت کا رشتہ دار ہونا ضروری نہیں، بلکہ ہر مسلمان دوسرے مسلمانوں اور مرحومین کےلیے ایصالِ ثواب کر سکتاہے اور اس کا میت کو ضرورثواب پہنچے گا، البتہ اولاد اور دیگر اقرباء پر حق زیادہ ہے کہ میت کےلیے ایصالِ ثواب کریں، لہٰذا میت کے پوتے اور نواسے نواسیوں کو چاہیے کہ اپنے مرحوم عزیز و اقرباء کے لۓ حسبِ توفیق صدقہ، خیرات یا دعا وغیرہ کے ذریعے ایصالِ ثواب کرتے رہا کریں، مرحومین کو ثواب بھی پہنچے گا۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾ (الحشر: 10)۔
وقال اللہ تعالیٰ: ﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ ﴾ (محمد: 19)۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : " إذا مات الإنسان انقطع عمله إلا من ثلاثة أشياء: صدقة جارية أوعلم ينتفع به أوولد صالح يدعو له) اھ (1/ 71)۔