محترم جناب مفتی صاحب! السلام و علیکم ورحمۃ اﷲ
ایک ضروری مسئلہ کا شرعی حل درپیش ہے ، بطورِ تمہید عرصہ ۲۰ سال سے ہماری مسجد میں بعد نمازِ عشاء حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کی فضائلِ اعمال ، بطورِ تعلیم پڑھی جاتی تھی اور الحمدللہ دعوت و تبلیغ کا کام حسن و خوبی کے ساتھ جاری تھا ، اس دوران ایک شخص چالاکی کے ساتھ اپنے رسوخ اور مال و دولت کے ذریعہ مسجد کمیٹی میں شامل ہوا ، اور اس نے اس بیس سالہ تعلیمی سلسلہ کو یہ کہہ کر بند کرادیا کہ ایک مرتبہ مکمل درسِ قرآن ہوجائے ، چنانچہ مسجد کمیٹی نے فیصلہ صادر فرمادیا اور تبلیغی حضرات فتنہ کے خوف سے خاموش رہے ، اور اس بات کا انتظار کیا ، درسِ قرآن مکمل ہوجائے ، چنانچہ ۱۲ سال کے طویل عرصہ میں درسِ قرآن کا سلسلہ ختم ہوا ، وعدہ کے مطابق تبلیغی حضرات نے اپنے پرانے سلسلہ کو دوبارہ جاری کیا ، لیکن اس شخص نے اس عمل کی بھرپور مخالفت کی اور طاقت کے بل بوتے پر کچھ ساتھیوں کو دھمکیاں دیں اور کچھ کو غنڈوں کے ذریعے مسجد کے باہر پٹوایا ، اس بات کا پورا محلہ گواہ ہے ، اور اس کے اس عمل سے محلے میں لسانی فتنہ برپا ہوگیا ، لیکن چند سمجھدار حضرات نے اس معاملہ کو مسجد میں بیٹھ کر تمام اہلِ محلہ اور مقتدیوں کے مشورے سے حل فرمایا اور فیصلہ یہ ہوا کہ بعد نمازِ عشاء تعلیم ہوگی اور درسِ قرآن کا عمل فجر کے بعد ہوگا ، متفقہ طور پر اس فیصلہ کو تسلیم کیا گیا اور اس مذکورہ شخص نے بھی اس فیصلہ کو قبول کیا اور اپنی غلطیوں کا اقرار کیا اور تمام ساتھیوں سے اپنے غلط طرزِ عمل کی معافی تلافی بھی کی ، لیکن یہ اس کی منافقانہ چال تھی اور وہ اندر ہی اندر انفرادی طور پر عوام اور خواص میں یہ تأثر دیتا رہا کہ تبلیغی حضرات درسِ قرآن کے منکر ہیں اور یہ کتاب فضائلِ اعمال ۸۰ سال پہلے کی لکھی ہوئی ہے یعنی فضائلِ اعمال اور قرآن کا تقابل کرنے لگا، اس سلسلہ میں چند امور رائے طلب ہیں، برائے مہربانی شریعت کی رو سے فیصلہ فرمائیں :
(۱) اس مذکورہ شخص کے بارے میں علماء کی شرعاً کیا رائے ہے؟
(۲) اگر درسِ قرآن فجر میں اور تعلیم کا عمل عشاء میں ہوجائے تو اس میں کیا شرعی قباحت ہے؟
(۳) مذکورہ شخص نے جو وعدہ خلافی کی اس کی شرعی سزا کیا ہوگی؟
(۴) تبلیغی حضرات پر یہ بہتان باندھنا کہ وہ درسِ قرآن کے منکر ہیں ، اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟
(۵) فضائلِ اعمال اور قرآن کا تقابل کرنا اور حضرت شیخ کی کتاب کو ضعیف احادیث کا مجموعہ کہنا کیا یہ عمل درست ہے؟
سوال میں ذکر کردہ تمام باتیں اگر درست ہیں ، تو مذکورہ شخص کا طرزِ عمل کئی اعتبار سے درست نہیں ، لہٰذا اسے ایسا کرنے سے باز آنا چاہئے اور اپنے کئے پر توبہ واستغفار بھی کرنی چاہئے ورنہ عنداللہ سخت گنہگار ہوگا۔
تفصیلی جواب نمبر وار ملاحظہ فرمائیے :
(الف) اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ، اس وقت دعوت و تبلیغ کے کام کو جو قبولیت بخشی ہے اور ہزاروں افراد کی اصلاح کا ذریعہ بنایا ہے ، یہ کسی سے مخفی نہیں ، لہٰذا صرف درسِ قرآن کا حیلہ کرکے تبلیغی کام میں رکاوٹ پیدا کرنا ، ہرگز درست نہیں تھا ، البتہ درسِ قرآن کیلئے اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کیلئے اگر الگ الگ وقت مقرر کرلیا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا۔
(ب) پورے قرآن کریم کا درس مکمل ہونے کے بعد ، دوبارہ فضائل کی تعلیم شروع کرنے پر مذکورہ شخص کا اس کی مخالفت کرنا ، دھمکیاں دینا اور لڑائی جھگڑے کے ذریعہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنا ، مذکورہ شخص کے سخت ناپسندیدہ اور عنداللہ مذموم افعال ہیں ، جس پر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
(ج) دستور کے مطابق اہلِ محلہ اور علاقے کے سمجھدار لوگوں نے جب معاملہ کا تصفیہ کروادیا ، جس میں درسِ قرآن کریم اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کیلئے الگ الگ وقت مقرر کردیا گیا اورسب نے اس فیصلے کو تسلیم بھی کرلیا ، اس کے بعد مذکورہ شخص کا فضائلِ اعمال کی کتاب کا قرآن کریم سے تقابل کرکے لوگوں کو یہ تأثر دینا ، کہ تبلیغی جماعت والے درسِ قرآن کے منکر ہیں ، سراسر فتنہ انگیزی اور بدعہدی ہے جس پر قرآن و حدیث میں وعیدیں وارد ہیں، لہٰذا قرآن کی آیت : وَاَوْفُوْا بِالْعَہْدِ اِنَّ الْعَہْدَ۔ (ترجمہ) ’’اور پورا کرو عہد کو بے شک عہد کی (قیامت میں) پوچھ ہوگی‘‘۔ کے تحت حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ معارف القرآن میں لکھتے ہیں:
’’دوسری قسم عہد کی وہ ہے جو انسان کسی انسان سے کرتا ہے جس میں تمام معاہدات سیاسی ، تجارتی ، معاملاتی شامل ہیں ، جو افراد یا جماعتوں کے درمیان دنیا میں ہوتے ہیں ، پہلی قسم کے تمام معاہدات کا پورا کرنا انسان پر واجب ہے اور دوسری قسم میں ، جو معاہدات خلافِ شرع نہ ہوں ان کا پورا کرنا واجب اور جو خلافِ شرع ہوں ان کا فریقِ ثانی کو اطلاع کرکے ختم کردینا واجب ہے‘‘۔
اب مذکورہ سوالوں کے جوابات بالترتیب ملاحظہ فرمائیے:
(۱) مذکورہ شخص کے مذکورہ تمام افعال خلافِ شرع ہیں ، لہٰذا اسے فوراً ان افعال کو ترک کرکے اللہ سے توبہ واستغفار کرنی چاہئے اور آئندہ ان افعال سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے۔
(۲) کوئی قباحت نہیں بلکہ مناسب ہے۔
(۳) وعدہ خلافی اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے نہ ہو تو وہ سخت گنہگار ہے، لہٰذا اہلِ معاملہ لوگوں سے معافی مانگے اور اس کی تلافی کرے۔
(۴) اس قسم کا بہتان باندھنا گناہِ کبیرہ ہے اس کیلئے اہلِ معاملہ لوگوں سے معافی مانگنا اور دل سے توبہ واستغفار کرنا واجب ہے۔
(۵) مذکورہ کتاب ، فضائل کے باب میں لوگوں کو اعمال کی ترغیب دینے کیلئے لکھی گئی ہے (یہ کوئی احکام کی کتاب نہیں ہے) اور علماءِ اہلِ حق کے نزدیک یہ کتاب اس مذکور مقصد میں ایک مسلم اور معتبر کتاب ہے، لہٰذا کسی عام آدمی کا اس کتاب کو ضعیف احادیث کا مجموعہ کہنا محض جہالت ہے۔
الجواب صحیح
ڈاکٹر مفتی نظام الدین شامزئی
دارالافتاء جامعہ اسلامیۃ امداد العلوم ناظم آباد کراچی
۳؍جمادی الثانیۃ؍۱۴۱۸ھـ
الجواب صحیح
بندہ سیف اﷲ جمیل
دارالافتاء جامعہ بنوریہ کراچی ۱۶
۲۲؍جمادی الثانیۃ؍۱۴۱۸ھـ
الجواب صحیح
عبد اﷲ شوکت کان اﷲ لہٗ
دارالافتاء جامعہ بنوریہ کراچی ۱۶
۲۲؍جمادی الثانیۃ؍۱۴۱۸ھـ