ہمارے شہر داسو (کے پی کے)میں حکومت کی طرف سے ایک ڈیم بن رہا ہے، جب کہ اسی ڈیم کے پراجیکٹ کے لئے غیر ملکی بینکوں نے سود پر قرض فنڈ دیا ہے، جو کہ حکومت سود سمیت واپس لوٹائیگی، اسی فنڈ میں مقامی ترقیاتی کاموں کیلئے کچھ حصہ(لوکل ایریا ڈیولپمنٹ پروگرام) کے نام سے مختص ہے، جس کو حکومت نے مقامی ترقیاتی کاموں کیلئے استعمال میں لانا ہے، کیا اسی مختص شدہ فنڈ میں سے مقامی مساجد کی تعمیر یا مرمت جائز ہے؟ اگر اسی مختص شدہ فنڈ سے اگر مسجد بنی ہے تو اس مسجد میں نماز پڑھنے یا نہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
واضح ہوکہ سودی معاملہ کرنا شرعاً ناجائز وحرام اور گناہِ کبیرہ ہے، اور سود لینے والا اور سود دینے والا دونوں سخت گناہ گار ہوتے ہیں، البتہ سودی معاملہ کرکے قرض لینے والا اس رقم کا مالک بن جاتا ہے، اور اس کو اس رقم میں ہر جائز تصرف کا مکمل اختیار ہے،چنانچہ سودی قرض لیکر حکومتِ وقت کے لئے اس رقم سے مسجد کی تعمیر وغیرہ کا کام کروانا درست ہے، اور اس مسجد میں نماز بھی بلاکراہت درست ہوگی، البتہ سودی لین دین چونکہ شرعاً ناجائز وحرام اور اللہ تعالیٰ سے کھلم کھلا اعلان جنگ ہے، لہذا سودی لین دین سے بہر حال اجتناب لازم ہے۔
کما فی صحیح مسلم: عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»الحدیث (ج3 صـ1219 باب لعن آكل الربا ومؤكله ط: دار إحياء التراث العربي، بيروت)۔
کما فی الدرالمختار: (ويملك) المستقرض (القرض بنفس القبض عندهما) أي الإمام ومحمد خلافا للثاني فله رد المثل ولو قائما خلافا له بناء على انعقاده بلفظ القرض وفيه تصحيحان وينبغي اعتماد الانعقاد لإفادته الملك للحال بحر (الی قولہ) (القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منها لا يبطله ولكنه يلغو شرط رد شيء آخر فلو استقرض الدراهم المكسورة على أن يؤدي صحيحا كان باطلا) وكذا لو أقرضه طعاما بشرط رده في مكان آخر (وكان عليه مثل ما قبض) فإن قضاه أجود بلا شرط جاز الخ (ج5 صـ164-165 فصل فی القرض ط: سعید)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1