کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ مسماۃ ”بی بی عائشہ“نے مدّتِ رضاعت میں اپنی نانی کا پستان منہ میں لیا تھا، اس وقت نانی کی عمر تقریباً اسی سال سے بھی زائد تھی، اور نانی کی سب سے چھوٹی اولاد کی عمر تقریباً پینتیس سال تھی، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت نانی کے پستانوں میں کوئی دودھ وغیرہ نہیں تھا، بس صرف پستان منہ میں لیا تھا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا بی بی عائشہ کا نکاح اس کی خالہ کے لڑکے کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر ”مسماۃ بی بی عائشہ“ کی نانی نے اپنے بڑھاپے کی عمر میں اپنی نواسی مسماۃ بی بی عائشہ کے منہ میں اپنی چھاتی دی ہو، اور اس وقت چھاتی میں دودھ نہ ہونے کا یقین یا غالبِ گمان ہو تو صرف چھاتی منہ میں دینے کی وجہ سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوتی، لہٰذا مسماۃ بی بی عائشہ کا اپنے خالہ زاد بھائی کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو۔
کمافی الدر المختار: فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم إلخ
وفی الشامیۃ: وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك. ثم قال: والواجب على النساء أن لا يرضعن كل صبي من غير ضرورة، وإذا أرضعن فليحفظن ذلك وليشهرنه ويكتبنه احتياطا اهـ (ج3،صـــ212،ط:سعید)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0