کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میں مسمی زید کا نکاح مسماۃ کلثوم سے 2018 میں ہوگیا تھا، لیکن کچھ گھریلو مالی حالات کی تنگی کی وجہ سے رخصتی نہیں کراسکے، اور اب جب ہم رخصتی کا مطالبہ کرتے ہیں، تو لڑکی والے کہتے ہیں کہ یہ نکاح اتنا زیادہ عرصہ گزر نے کی وجہ سے خارج اور ختم ہوچکا ہے، اب معلوم یہ کرنا ہےکہ واقعی بغیر رخصتی کے زیادہ دیر کرنے کی وجہ سے نکاح بغیر کسی طلاق کے ختم ہوجاتا ہے، یا برقرار رہتا ہے؟جو بھی حکم شرعی ہو تحریر فرمائیں۔
واضح ہوکہ نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، بلکہ نکاح حسب سابق برقرار رہتا ہے، لہذا اگر سائل نے نکاح کے بعد زبانی یا تحریری طور پر اپنی بیوی کو کوئی طلاق نہ دی ہو، تو فقط رخصتی میں تاخیر کی وجہ سے سائل کا نکاح شرعاً ختم نہیں ہوا، بلکہ حسب سابق برقرار ہے، لہذا سائل کے لئے رخصتی کراکر اپنی بیوی کیساتھ زندگی بسر کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔