السلام علیکم! حضرت میں نے اپنی وائف کو لیڈیز سیلون بناکر دیا تھا، جو کہ نہ چل سکا اور ہم نے اسے سیل کرکے پیسے اپنی بیوی کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروا دیے ، میرے علم میں نہیں تھا کہ وہ سیونگ اکاؤنٹ ہے، اور اس پر سود سے پیسے ملیں گے، اور نہ ہی میری بیوی کو کوئی ایسا لالچ تھا، سیلون بنانے کے لئے ہم نے ایک اور بینک سے کریڈٹ کارڈ پرAC ایک سال کی قسط پر لیا تھا، اب جو اکاؤنٹ دیکھا تو اس میں ایک سال میں کئی بار سود کی رقم آئی ہوئی تھی، تو سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں، میری بیوی کا کہنا ہے کہ ہم نے جو سود بینک کو ادا کیا ہے وہ آنے والے سود سے کاٹ لیتے ہیں، اورباقی کی رقم کسی ایسے فرد کو دیدیتے ہیں جوکہ سود والے قرض میں پھنسا ہواہو، آپ رہنمائی فرمادیں کہ ایسا کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کی بیوی نے کس بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوایا تھا، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر مذکور اکاؤنٹ کسی سودی بینک میں کھلوایا تھا، تو سودی معاملہ کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہوا ہے، اس پر توبہ واستغفار کیا جائے، اور آئندہ کے لئےاس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کیا جائے، البتہ اب تک جو سودی رقم وصول ہوچکی ہو، تو مذکور زائد رقم اپنے استعمال میں لانے کے بجائے کسی مستحقِ زکوۃ کو مالکانہ طور پر دیدی جائے۔
کما فی صحیح مسلم: عن جابر رضی اللہ عنہ قال: ؛عن رسول للہ ﷺ آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ، وقال: ھم سواء ۔الحدیث (ج2 صـ27 ط: قدیمی)۔
وفی معارف السنن: قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقھائنا "کالھدایۃ" وغیرھا ان من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الرد الی المالک فسبیلہ التصدق عل الفقراء الخ (ج1 صـ34 ابواب الطھارۃ ط: سعید)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1