کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں جگر کا مریض ہوں اور ابھی آپریشن بھی ہوا ہے ، کوئی کام وغیرہ نہیں کرسکتا ، میرے دو بیٹے ہیں ، ایک بیٹے نے کچھ خیال کیا تھا اب اس نے بھی ہاتھ اٹھا لیا ہے ، بڑا بیٹا بالکل خیال نہیں کررہا اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ میرے بیٹوں پر اس وقت میرے اور میری بیوی کے کیا حقوق ہیں ، وہ دونوں میرے گھر میں رہتے ہیں ، اگر وہ خرچہ وغیرہ نہ دیں تو کیا میں ایسا کرسکتا ہوں کہ ان کو رہائش الگ کرنے کا کہہ دوں اور اپنا گھر کرایہ پر دے دوں ، تاکہ اس سے جو کرایہ آئے اس سے میرا اور میری بیوی کا گزر بسر ہوسکے ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل اگر جگر کے مرض میں مبتلا ہونے یا بڑھاپے کی وجہ سے اپنے اور اپنی بیوی کے نان و نفقہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے کمانے سے قاصر ہو ، اور اس کے پاس اتنا مال بھی نہ ہو ، جس سے وہ اپنے اور اہلیہ کے اخراجات پورے کرسکے تو ایسی صورت میں ان کی اولاد پر اپنی ضروریات سمیت بقدرِ وسعت والدین کا نان و نفقہ ، علاج معالجہ کا خرچہ ، دیگر ضروریات پورے کرنا اور ان کی راحت رسانی کا خیال رکھنا لازم ہے ، جس میں کوتاہی کی وجہ سے سائل کی اولاد سخت گنہگار ہو رہی ہیں ، جس پر انہیں بصدقِ دل توبہ و استغفار کرتے ہوئے آئندہ کےلئے اپنا رویہ درست کرنا لازم ہے ، جبکہ سائل چونکہ اپنی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہے ، جس میں اسے جس طرح چاہے تصرف کرنے کا اختیار حاصل ہے ، لہٰذا اسے اپنی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کےلئے مذکور مکان سے بیٹے کی رہائش علیحدہ کرکے اسے کرایہ پر دینے کی گنجائش ہے ۔
کمافی التنویر مع الدر: (و) تجب (على موسر) ولو صغيرا (يسار الفطرة) على الأرجح ورجح الزيلعي والكمال إنفاق فاضل كسبه وفي الخلاصة: المختار أن الكسوب يدخل أبويه في نفقته (إلی قولہ) (النفقة لأصوله) ولو أب أمه ذخيرة (الفقراء) ولو قادرين على الكسب والقول لمنكر اليسار والبينة لمدعيه (بالسوية) بين الابن والبنت اھ (ج3، صـــ621، ط:سعید)۔
وفی الھدایۃ: وعلى الرجل أن ينفق على أبويه وأجداده وجداته إذا كانوا فقراء وإن خالفوه في دينه اھ (ج2، صـــ131، ط:انعامیۃ)۔