السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ !
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیوی نے میرے بھائی کے بڑے اور چھوٹے بیٹے کو دودھ پلایا ہے ، اور درمیانی بیٹے کو نہیں پلایا ہے ، اب میرا بھائی میری بیٹی کا نکاح اپنے اس درمیانی بیٹے سے کرنے کا خواہشمند ہے ۔ اب پوچھنا یہ تھا کہ آیا یہ نکاح شرعاً درست ہے یا نہیں ؟
سائل کے درمیانی بھتیجے نے اگر سائل کی بیوی کا دودھ نہ پیا ہو اور نہ ہی سائل کی مذکور بیٹی نے مذکور چچی کا دودھ پیا ہو تو ان دونوں کا آپس میں نکاح شرعاً جائز ہے ، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جا تی ہو ۔
كما في الهداية : و يجوز أن يتزوج الرجل بأخت أخيه من الرضاع " لأنه يجوز أن يتزوج بأخت أخيه من النسب وذلك مثل الأخ من الأب إذا كانت له أخت من أمه جاز لأخيه من أبيه أن يتزوجها "الخ ( كتاب الرضاع، ج 2، ص 371، ط : مكتبة رحمانية)-
و في الفتاوى الهندية : وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجهاالخ (كتاب الرضاع، ج 2، ص 182، ط : رشيدية)-
و في الدر المختار : (وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر ( باب الرضاع، ج 3، ص 217، ط : سعيد)-
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0