السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
میرا ایک سوال ہے کہ اگر 2 فریقین آپس میں مل کر شراکت داری پر چھوٹی سی رقم سے کوئی کام کرنا چاہیں، جس میں ساری رقم فریق نمبر 1کی ہو، اور فریق نمبر 2 نے اس پیسے سے کوئی بھی جائز کام کرنا ہو جس سے منافع حاصل کیا جا سکے اور نقصان کے خدشات کم ہوں مگر منافع کا صحیح علم نہ ہو کہ کتنا ہو گا،مثال کے طور پر 100000 روپے سے کوئی کام شروع کیا گیا ہو، اور دونوں فریقین کے درمیان بغیر کسی زور زبر دستی کے یہ طے پا یا جائے کہ فریق نمبر 1 ماہانہ منافع میں سے (خواہ جتنا بھی منافع ہو) اصل رقم کے 6 فیصد (6000) تک کا منافع رکھے گا،اور بقیہ منافع جتنا بھی ہو وہ منافع فریق نمبر 2 رکھے گا، اور اسی طرز پر اگر کوئی نقصان ہو تو وہ بھی اسی فیصد کے حساب سے تقسیم ہو گا، کہ کل نقصان (خواہ جتنا بھی نقصان ہو) اصل رقم کے 6 فیصد (6000) تک کا نقصان فریق نمبر 1 برداشت کرے گا۔جبکہ بقیہ نقصان جتنا بھی ہو وہ نقصان فریق نمبر 2 برداشت کرے گا،اور جتنا عرصہ کے لیے یہ شراکت داری رہے اسی فیصدی پر کام کرتے رہیں اور جب شراکت داری ختم ہو تو ساری کی ساری اصل رقم 100000 فریق نمبر 1 کو واپس کر دی جائے۔ ایسی جائز شراکت داری جس سے دونوں فریقین کو فائدہ حاصل ہو رہا ہوجائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ سائل نے سوال میں فریقین کے درمیان ہونے والے معاملے کی جو صورت ذکر ہے، جس میں ایک فریق کی طرف سے سرمایہ اور دوسرے فریق کی طرف سے محنت اور عمل ہے یہ مضاربت کی صورت ہے، جبکہ عقدِ مضاربت میں فریقین کا منافع کی تقسیم کیلئے سرمایہ کے اعتبار سے فیصدی تناسب طے کرکے کسی ایک فریق کا منافع متعین کرنا درست نہیں ، بلکہ کاروبار میں ہونے والے متوقع منافع کے مطابق فیصدی تناسب طے کرنا لازم اور ضروری ہے، اسی طرح نقصان ہوجانے کی صور ت میں کام کرنے والے فریق کو ہر حال میں سرمایہ کے چھیانوے فیصد کا ذمہ دار قرار دینا یا ہر صورت میں کاروبار ختم ہونے پر کل سرمایہ کی واپسی کا ذمہ دار قرار دینا شرعاً درست نہیں ، بلکہ اگر کام کرنے والے فریق کی غفلت اور لاپرواہی و کوتاہی کے بغیر نقصان ہوجائے تو شرعاً اس پر نقصان کی تلافی کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں فریقین کے درمیان ہونے والا معاملہ شرعاً درست نہیں بلکہ فاسد ہے ، چنانچہ فریقین کو چاہیئے کہ اس معاملے کو ختم کر کے از سرنو شریعت کے مطابق معاہدہ کریں۔
کما فی الدر المختار: وشرعا (عقد شركة في الربح بمال من جانب) رب المال (وعمل من جانب) المضارب الخ (کتاب المضاربۃ ج 5 صـ 645 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: (وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح) ؛ لأنه تبع (فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن) ولو فاسدة من عمله؛ لأنه أمين (وإن قسم الربح وبقيت المضاربة ثم هلك المال أو بعضه ترادا الربح ليأخذ المالك رأس المال وما فضل بينهما، وإن نقص لم يضمن) لما مر اھ (کتاب المضاربۃ ج 5 صـ 656 ط: سعید)-
وفی الھندیۃ: وما هلك من مال المضاربة فهو من الربح دون رأس المال، كذا في الكافي، والله أعلم اھ (کتاب المضاربۃ ج 4 صـ 321 ط: ماجدیۃ)-
و فی رد المحتار: تحت (قوله: من عمله) يعني المسلط عليه عند التجار، وأما التعدي فيظهر أنه يضمن . سائحاني اھ (کتاب المضاربۃ ج 5 صـ 656 ط: سعید)-
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0