ہماری کمپنی ملازمین کو ہاؤس بلڈنگ لون کی پیشکش کرتی ہے، اور 4 فیصد سروس, ملک میں انکم ٹیکس کے قوانین کی وجہ سے کٹوتی کرتی ہے۔
واضح ہوکہ قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط یا معروف نفع لینا شرعاً سود ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے-
لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کی کمپنی اگر براہِ راست ملازمین کورقم بطورِ قرض دے کر اس پر چار فیصد انکم ٹیکس کے نام سے اضافی چارج کرے تو شرعاً یہ معاملہ سود ہونے کی بناء پر جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اس کی جائز اور متبادل یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ کمپنی قرض دینے کے بجائے اس رقم سے گھر بناکر متعین نفع کے ساتھ مزدور کو ادھار یا نقد بیچ دے تو یہ صورت بلاشبہ جائز ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع: (وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب الخ(کتاب القرض، ج 7، ص 395، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: المرابحة بيع بمثل الثمن الأول وزيادة ربح الخ (باب المرابحۃ، ج 3، ص 160، ط: ماجدیہ)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1