فوریکس ٹریڈنگ کا شرعی حکم کیا ہے؟
واضح ہوکہ فاریکس ٹریڈنگ کی جو مروّجہ صورت ہے اسمیں عام طور پرچونکہ خرید و فروخت مقصود نہیں ہوتی بلکہ فرق برابر کرکے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا روبار میں قبضہ کے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے جو شرعاً جائز نہیں ہے اسلئے عام حالات میں تو یہ کاروبار قطعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے ، تاہم اگر کسی شخص کا کوئی وکیل اس طرح کے سامان (کرنسی وغیرہ)پرقبضہ کرکے آگے بیچے توبلاشبہ اسکانفع حلال ہوگا،مگراس کاروبار میں عموماً ایسانہیں ہوتا، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے۔ (ازتبویب)
کما في فقہ البیوع: 3:وکثیراً مایبیع الانسان ما لایملکہ ،ولایقع التسلّیم والتّسلّم فی کثیرمن عملیّات السوق، وانّمایصفّی الباعہ والمشترون عملیّاتھم بفروق الاسعار۔(الی قولہ)5:مایشتریہ الانسان عن طریق ھذہ السوق عملات غیرمتعیّنہ ،لان التّعیین فی العملات انّما یتحقق بالقبض ،وھومفقود فی معظم العملیّات ،ومن ھذہ الجھات ،فانہ لایجوز التعامل شرعاً عن طریق سوق الفوریکس ۔(2/765)۔
ایک جنس کی کرنسی کا باہم تبادلہ کرنے کے وقت کمی بیشی کرنا-اور قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط
یونیکوڈ کرنسی 0