السلام علیکم !کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زینب کو مدتِ رضاعت میں ہندہ نے ایک بار اپنا دودھ پلایا اور یہ بات سارے خاندان والوں کو پتہ ہے ، اب زینب کے گھر والوں نے زینب کا نکاح ہندہ کے سگے بیٹے سے کروا دیا ہے، نکاح رجسٹر بھی ہو گیا ہے، لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی۔ حکم ِشرعی سے آگاہ فرما دیں۔ جزاک اللہ خیرا!
صورتِ مسئولہ کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس طور پر کہ ہندہ نے مدتِ رضاعت میں زینب کو دودھ پلایا ہو اور اس پر شرعی شہادت موجود ہو یا یہ بات خاندان میں اس قدر مشہور ہو کہ اس کا انکار ممکن نہ ہو ،تو ایسی صورت میں مدتِ رضاعت میں دودھ پلانے کی وجہ سے حرمتِ رضاعت ثابت ہو کر مسماۃ ہندہ کی تمام اولاد زینب کے رضاعی بھائی بہن بن چکے ہیں ، اور جس طرح حقیقی بھائی بہن کا باہم عقدِ نکاح جائز نہیں ، اسی طرح رضاعی بھائی بہن کا نکاح بھی جائز نہیں ، لہٰذا زینب کا ہندہ کے سگے بیٹے سے کیا ہوا نکاح شرعاً درست نہیں ، بلکہ ناجائز و حرام ہے ، اگرچہ قانونی طور پر یہ رجسٹرڈ بھی ہوا ہے ، لہٰذا گھر والوں پر لازم ہے کہ اس رشتہ کو جلد از جلد ختم کروائیں ، تاکہ بعد میں حرام میں مبتلا ہونے سے بچا جاسکے ۔
کما فی صحیح مسلم: عن عائشۃ قالت: قال لی رسول اللہ ﷺ"یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ " اھ ( کتاب الرضاعۃ صـــ 593 رقم الحدیث : 1444 ط : مؤسسۃ الرسالۃ ) ۔
و فی الھندیۃ: یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع و اصولھما و فروعھما من النسب و الرضاع جمیعاً الخ ( کتاب الرضاعۃ ، ج 1 صـــ 343 ط : ماجدیہ ) ۔ واللہ اعلم
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0