آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ میری سالی کے چار بیٹے ہیں ،اور وہ میری بڑی بیٹی کا رشتہ اپنے بڑے بیٹے کیلئے لینے آئی، جبکہ اُس نے میری اُسی بڑی بیٹی کو بچپن میں تھوڑی دیر کیلئے دودھ دینے کی کوشش کی تھی جب اُس کا تیسرے نمبر والا بیٹا چار ماہ کا تھا ،مگر وہ کہہ رہی ہیں اُس کے تیسرے نمبر والے بیٹے نے صرف اکیس دن دودھ پیا تھا، جس وقت اُس نے میری بڑی بیٹی کو دودھ دینے کی کوشش کی تو اُس وقت اُس کا بیٹا چار ماہ کا تھا ،اور اُس وقت اُس میں دودھ نہیں تھا، اِس لئے اُس نے دودھ دینے کی کوشش تو کی مگر دودھ نہیں تھا ، اِس سلسلے میں آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا مذکورہ صورت میں میں اپنی بڑی بیٹی کا رشتہ اپنی سالی کے بڑے بیٹے سے کر سکتا ہوں کہ نہیں ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ حرمت رضاعت کے ثبوت کے لئے محض چھاتی منہ میں لینا کافی نہیں ، بلکہ دودھ کا حلق سے نیچے اترنا بھی ضروری ہے ، لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کی سالی اگر اپنی بات پر قسم اٹھالے کہ جس وقت اس نے سائل کی مذکور بیٹی کو دودھ پلانے کی کوشش کی تھی اس وقت اس کی چھاتیوں میں دودھ نہیں تھا تو صرف چھاتی منہ میں دینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوئی ، لہذا سائل کے لئے اپنی بیٹی کا اپنی سالی کے بیٹے سے رشتہ کرنا جائز ہے ۔
کما فی الدر المختار : ( ویثبت بہ ) ولو بین الحربین بزازیۃ ( و ان قل ) ان علم وصولہ لجوفہ من فمہ أو أنفہ لا غیر الخ
وفی رد المحتار تحت : ( قولہ لا غیر ) ( الی قولہ ) و فی القنیۃ : امرأۃ کانت تعطی ثدیھا صبیۃ و اشتھر ذلک بینھم ثم تقول لم یکن فی ثدیی لبن حتی ألقمتھا ثدیی و لم یعلم ذلک الا من جھتھا جاز لابنھا ان یتزوج بھذہ الصبیۃ اھ ( کتاب الرضاع ، ج 3 ، ص 212 ، ط : سعید )۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0