کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بیٹے مسمیٰ ثقلین نے میری والدہ کا دودھ پیا ہے ، تو کیا میرے بیٹے کانکاح میری بھانجی کے ساتھ جائز ہے یانہیں؟ اگر نہیں تو اور کس کس کے ساتھ ناجائز ہے اور کس کے ساتھ جائز ہے؟
سائل کے بیٹے مسمیٰ ثقلین نے جب مدتِ رضاعت میں اپنی دادی (سائل کی والدہ) کا دودھ پیا تو وہ اپنی دادی کا رضاعی بیٹا اور اپنے تمام چچاؤں اور پھوپھیوں کا رضاعی بھائی بن چکا ہے، چنانچہ مسمیٰ ثقلین کی چچازار اور پھوپھی زاد بیٹیاں اس کی رضاعی بھتیجیاں اور بھانجیاں بن چکی ہے، اور جس طرح حقیقی بھانجیوں ، بھتیجیوں کے ساتھ نکاح جائز نہیں اسی طرح رضاعی بھانجیوں ، بھتیجیوں کے ساتھ بھی ناجائز اور حرام ہے ،
لہذا سائل کے مذکور بیٹے ثقلین کا اپنی پھوپھی زاد اور چچا زاد بیٹیوں (سائل کی بھتیجیوں اور بھانجیوں) کے ساتھ نکاح شرعاً جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ ۔۔الخ(سورة النسآء - آیت 23)۔
و فی سنن ابن ماجه: عن عائشةؓ قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب(1 /623)۔
و فی الدر المختار : حرم (الكل) مما مر تحريمه نسبا، ومصاهرة (رضاعا) إلا ما استثني في بابه. (قوله: نسبا) تمييز عن نسبة تحريم للضمير المضاف إليه، وكذا قوله: مصاهرة، وقوله: رضاعا تمييز عن نسبة تحريم إلى الكل، يعني يحرم من الرضاع أصوله وفروعه وفروع أبويه وفروعهم، وكذا فروع أجداده وجداته الصلبيون، وفروع زوجته وأصولها وفروع زوجها وأصوله وحلائل أصوله وفروعه الخ(3/ 31)۔
و فی الهندية: يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا الخ(1/ 343)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0