ہمارا پیارا وطن اسلامی مملکت پاکستان جو کہ(14) ،اگست (1947)،(27) رمضان المبارک کے با برکت مہینہ میں وجود میں آیا ، کچھ ہی عرصہ میں ہمارا اسلامی مشرقی پاکستان واپس لے لیا گیا ( انا للہ و انا الیہ راجعون) ،ہم اس وطن پاکستان کو "لا الہ الا اللہ" کے نام سے بھی پچھلے(22) سے(25)سال سے تشبیہ دیتے ہیں ، اس کا مطلب نامعلوم کون اور کہا ں سے لے کر آیا ہے (و اللہ اعلم )اسلامی مملکت پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے (76) سال سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا ہے ، اسی اثنا میں بہت سے ملک وجود میں آئے اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شمار ہو گئے ( الحمد للہ ) آپ سے قرآن اور سنت کی روشنی میں مندرجہ ذیل سوالات کے جواب اور رہنمائی کا طلبگارہوں۔
ہمارا پیارا اسلامی مملکت پاکستان کافی عرصہ سے(IMF) کا مقروض ہے ، اس کے سود کا قرض ادا کرنے کے لئے ہم اسی (IMF)سے مزید قرض سود میں اور چند دوست ممالک سے مدد مانگ کر(IMF)کو سود کی رقم ادا کرتے ہیں ، قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے بہت واضح طور پہ ذکر کیا ہے کہ سود لینے اور دینے والے دونوں ایسے ہیں جیسا کہ انہوں نے اللہ رب العزت سے اعلانِ جنگ کردیا ہو ، میں آپ سے اس بات کی وضاحت قرآن اور سنت کی رو سے چاہتا ہوں کہ کیا ایسے ملک کے حق میں دعا کرنا جائز ہے ؟ جس اسلامی مملکت نے خود ہی اللہ رب العزت سے کھلے عام اعلانِ جنگ ایک زمانے سے مسلط کر رکھی ہو ؟ کیا اس اسلامی مملکت پاکستان پر اللہ تبارک و تعالٰی کی رحمتیں اور برکتںس نازل ہو نگی یا کہ عذاب؟ جو کہ ہم پہ مختلف صورتوں میں مسلسل جاری ہے ،کیا اسلامی مملکت پاکستان کے رہنے والے ایک ایک شخص جو کہ(IMF)کے قرضوں کے بوجھ تلے ڈوبا ہوا ہے کیا وہ حلال کما اور کھا رہا ہے؟ اسلامی مملکت پاکستان میں ظلم، لا قانونیت، عدل او ر ناانصافیوں کا نظام، فرقہ واریت ، دہشت گردی ، بے ایمانی ، بے چینی ، بے سکونی افراتفری ، بے غیرتی ، بے بسی وغیرہ وغیرہ اپنے عروج پہ دیکھا جا سکتا ہے ، مجھ جیسا گناہ گار شخص جو اپنے نفع کے لئے ہر طرح کاجھوٹ بولتا اور بے ایمانی کرتا ہے ، نا ہی قانون کا احترام کرتا ہے ، خوا وہ ٹریفک کا ہو ، بلکہ اس کوشش میں لگا رہتا ہوں کہ غلط یا صحیح طریقوں سے جتنا ہوسکے مال بنالوں ، نا ہی ٹیکس ادا کرتا ہوں ،ہم پر بے ایمان، نا اہل بد کردار ، خود غرض، غدار حکمران مسلط کر دیے جاتے ہیں ،اسلامی جمہوریہ مملکت پاکستان میں سیاست دانوں اشرافیہ ، فاضل ججوں، دنیاوی علماءِ کرام اور اس اسلامی مملکت کی باگ دوڑ سنبھالنے والوں کو کوئی پوچھنے اور کہنے کی ہمت نہیں رکھتا اور جو رکھتا ہے اس کےانجام سے ہم سب بہ خوبی واقف ہیں، اس اسلامی مملکت پاکستان میں , جس کے پاس طاقت اور اسلحہ ہے وہ اس کے زور پر بدمعاش اور زبردستی اپنی عزت کرواتا ہے، اور اپنے ہی ملک کے لوگوں کو آنکھیں دکھاتا ہے،آپ سے اوپر دیے گئے سچائی اور حیقت کے حوالے سے قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی درکار ہے ، اور یہ کہ اس نظام کے ساتھ کب تک ہمارا پیارا اسلامی مملکت پاکستان وجود میں رہ سکتا ہے ؟
واضح ہو کہ سود کا لینا ، دینا اور اس میں تعاون کرنا ناجائز اور حرام ہے، اس پر قرآن و حدیث میں بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، سودی لین دین کرنے والوں سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے، ایسے شخص کو آپ ﷺ نے ملعون قرار دیا ہے،اس لئے ہر مؤمن اور سچے مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنا ذاتی کاروبار جس کا وہ مکلف ہے سودی لین دین اور دوسرے ناجائز امور سے پاک رکھے ،اور اپنے اور اپنے اہل و عیال کے معاش کیلئےجائز اور حلال ذرائعِ آمدن اختیار کرے،اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی اصطلاح کی بھی فکر کرے ،اس طور پر کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگی مکمل قرآن و سنت کے مطابق بنائے ، اور اپنی زندگی کو ہر قسم کی گناہوں سے پاک رکھے ،تاکہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالی کی خو شنودی حاصل ہو ،اور ہمیشہ کے جنت کی نعمتوں کا حقدار بنے ۔
البتہ اپنے ذاتی کاروبار کے علاوہ مجموعی طور پر ملکی سطح پر پورے نظامِ مالیات کی تطہیر کرنا ، ملکی اور غیر ملکی ، بیرونی سودی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرنا یہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی و حکومتی ذمہ داری ہے ،اور صاحبانِ اختیار و ذمہ داران شخصیات اگر بغیر کسی عذر کے اس میں بدلاؤ نہیں لاتے تو وہ قیامت کے دن اللہ کے حضور جوابدہ ہونگے ، عام آدمی کے پاس ایسا کوئی اختیار اور طاقت نہیں ہے،اور نہ ہی وہ اس بات کا مکلف ہے کہ وہ ملکی سطح پر ملک کو سودی معاملات جیسے سودی بینکاری اور اندرونی اور بیرونی سودی قرضوں سے پاک کرکے اس ملک کےسودی نظام کو بدل دے، البتہ انفرادی طور پر اس سے بچنا چاہیئے ،لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی ذات تک اپنے کاروبار کو سودی معاملات سے پاک رکھتا ہو ،اورکاروبار کرنے میں ناجائز اور غیر شرعی امور سے مکمل اجتناب کرتا ہو تو حکومت کا ملکی سطح پر سودی معاملات کرکے سودی قرضہ لینے یا دینے سے عام آدمی کی کمائی حرام نہیں ہوگی ،جہاں تک ملکی قانون پر عمل اور اس کی پابندی کا تعلق ہے تو چونکہ ایک معاشرے کا قیام و دوام‘ معاشرتی، اخلاقی اور دینی احکام و قوانین پر موقوف ہے،اس لئے قطع نظر اوروں سے کہ وہ کیا کرتے ہیں ایک مسلمان اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ اسلام کے اُصول و احکام اور اس کی روشنی میں بنائے ہوئے تمام قوانین و ضوابط کی پوری پابندی اور کامل احترام کرے، اسی طرح ہم ایک اچھے شہری، اچھے پاکستانی اور سچے مسلمان بن سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ اپنے لئے اور اپنے ملکِ پاکستان کیلئے اللہ سے دعا بھی کریں کہ اللہ تعالی اس ملک کو سدا قائم اور دائم رکھے اور ہمارے کمی کوتاہیوں سے درگزر کرکے ہم پر اس ملک میں ایسے نیک ،صالح ،اور بہتر حکمران عطا کرے کہ جو اس ملک میں ہماری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے بہتر اور فائدہ مند ہو۔
قال اللہ تعالی : لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَ اعْفُ عَنَّا وَ اغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (البقرہ /286)۔
و ایضاً : الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَ أَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَ مَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (275) يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَ يُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَ اللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (276) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَ آتَوُوا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرہ /277)۔
و فی مشکاۃ المصابیح : و عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : [ص:1086] «السمع و الطاعة على المرء المسلم فيما أحب و أكره ما لم يؤمر بمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع و لا طاعة» اھ (2/1086)۔
و فی شعب الایمان للبیہقی : عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ، فَقَالَ : " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَ لَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ " اھ (6/196)۔
و فی موسوعۃ القواعد الفقہیۃ : و في لفظ عند الدارقطني : "المسلمون على شروطهم ما وافق الحقّ" و بلفظ "المسلمون على شروطهم و الصّلح جائز" . و ذكره ابن أبي شيبة مرسلاً عن عطاء . و معنى قوله: على شروطهم أو عند شروطهم : أي أنّ المسلمين وقّافون عند شروطهم التي التزموها على أنفسهم فلا يتعدّونها ، و يعملون على المحافظة عليها و مراعاتها و تنفيذها .اھ(10 /610)۔