اعلی حضرت۔ اسلام علیکم ۔ اسلامک یونیورسٹی مدینہ میں تعلیم حاصل کرنا علماء کرام کے نزدیک کیسا ہے۔ میں نے سنا ہے وہ سلفیوں کا مدرسہ ہے ۔ کیا ایک حنفی دیوبندی سلفی مدرسہ میں تعلیم لے سکتا ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں نہیں لے سکتا مگر حضرت مولانا ساجد نعمانی صاحب دامت برکاته العالیه نے بھی دینی تعلیم مدینہ یونیورسٹی مدینہ سے حاصل کی ہے اور آپ نامور دیوبندی علماء میں سے ہیں ۔ حنفی اور سلفی میں کیا فرق ہے ۔ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ در رسول ﷺ پر اپنی زندگی گزارہ مگر قسمت والوں کو ایسا موقع ملتا ہے ۔وہ خوش نسیب ہوتے ہیں جو رسول پاکﷺ کے شہر میں رہتے ہیں ۔ ۔جو لوگ مدینہ یونیورسٹی مدینہ کے طالبہ علم ہیں وہ خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں کہ نبی پاک سرورے کائنات سید نا محمد عربی ہاشمی ﷺ کے شہر سے تعلیم حاصل کرنا اور اپنی عمر کا ایک لمبہ عرصہ سید نا محمد ﷺ کے شہر میں گزارنا اللہ رب العالمین کا خصوصی کرم ہے ۔ کیا جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فارغ التحصیل طالب علم جامعہ بنوریہ عالمیہ ، جامعہ اشرفیہ لاہور ، جامعہ بنوری ٹائون یہ جامعہ دارلعلوم دیوبند سے مفتی بن سکتا ہے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔ آپ کا جواب میرے لیے بہت قیمتی ہوگا ۔ مجھے اپنی خاص دعائوں میں یاد رکہیے گا کہ اللہ رب العالمین میری اس حاجت کو پورا فرمائیں اور میں اسلامک یونیورسٹی مدینہ سے عالم دین بنوں اور دارلعلوم دیوبند سے مفتی بنوں ۔اور اللہ رب العالمین مجھے اور میری نسلوں کو دین کا دائی بنائے اور نبی پاک سرورے کائنات سیدنا محمد عربی ہاشمی ﷺ کی بار بار زیارت نصیب فرمائیں ۔ آمین۔
’’جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ‘‘ (مدینہ یونیورسٹی ) سعودی حکومت کے زیرانتظام قائم ایک دینی تعلیمی ادارہ ہے جس میں پڑھانےوالےہماری معلومات کے مطابق بیشترافرادااہلسنت والجماعت سے تعلق رکھنے والےصحیح العقیدہ علماءکرام ہیں جس میں مسلکا ًحنبلی فقہ کے پیروکاروں کے علاوہ فقہ حنفی ،فقہ شافعی اورفقہ مالکی کے اساتذہ کرام بھی پڑھاتے ہیں ان پرمحض سنی سنائی باتوں کی وجہ سے بلاتحقیق سلفیت (بمعنی غیرمقلدیت )کاالزام لگانادرست نہیں اس لیے وہاں حصول ِتعلیم کیلئے داخلہ لینے میں کوئی حرج نہیں البتہ سائل کوچاہئے کہ وہ اپنی ابتدائی دینی تعلیم کسی مستنددینی ادارہ سے حاصل کرکے مزیدتعلیم کے حصول کیلئے ’’ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ‘‘کارخ کرے تویہ اس کیلئے زیادہ مفیدرہیگاتاکہ اپنے مسلک سے متعلق دلائل وبراھین سے واقف ہونے کی بناءپر مسلکی اختلاف اسکے ذہنی خلجان وانتشارکاباعث نہ بنیں اوروہ مکمل یکسوئی کے ساتھ قرآن وسنت کی تعلیم میں مزیدترقی کی منازل طےکرسکے جبکہ’’جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ‘‘سے فارغ التحصیل جوعالم دین’’جامعہ بنوریہ عالمیہ‘‘کے تخصص فی الفقہ میں داخلےکاخواہشمندہواگروہ’’جامعہ بنوریہ عالمیہ‘‘اورملک پاکستان کےوضع کردہ قوانین،اصول وضوابط اورشرائط ومعیارپرپورااترتاہواورداخلہ امتحان میں بھی کامیابی حاصل کرلے توبلاشبہ وہ ’’جامعہ بنوریہ عالمیہ ‘‘میں داخلہ کااہل قرارپائےگااورافتاءکی تعلیم مکمل کرکے اس میں کامیابی کی صورت میں اسے اسکی سندبھی جاری کی جائے گی۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل :وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (سورۃ التوبۃ،آیت 122)
کمافی الصحیح لمسلم ابن حجاج القشیری۔(ت۔۲۶۱ھ):باب بيان أن الإسناد من الدين. وأن الرواية لا تكون إلا عن الثقات. وأن جرح الرواة بما هو فيهم جائز، بل واجب وأنه ليس من الغيبة المحرمة، بل من الذب عن الشريعة المكرمة.
وفیه ایضاً :حدثنا حسن بن الربيع. حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب وهشام، عن محمد وحدثنافضيل عن هشام. قال وحدثنا مخلد بن حسين، عن هشام، عن محمد بن سيرين؛ قال: إن هذا العلم دين فانظروا عمن تأخذون دينكم(صحیح مسلم14/1ت۔عبدالباقی)