السلام علیکم ! میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ 2018 سے اسلام آباد میں کرایہ کے گھر میں رہتا ہوں ، میں قصر نماز پڑھتا ہوں ، کیونکہ میں نے کبھی بھی اسلام آباد میں 10 دن سے زیادہ قیام نہیں کیا ، ابھی میں نے نیا گھر خرید لیا ہے اور اپنے گھر پر منتقل ہو گیا ہوں ، لیکن اب بھی میں اسلام آباد میں 10 دن سے زیادہ نہیں رہا ، میرا شہری گھر 120 کلو میٹر دور ہے ، میں ہر ہفتہ میں اپنے شہری گھر کی طرف سفر کرتا ہوں ، براہِ کرم مجھ کو بتادیں اہل و عیال کے ساتھ اپنے گھر پر منتقل ہونے کے بعد میرے لئے کیا رہنمائی ہے کہ کیا میں قصر پڑھوں گا یا مکمل نماز پڑھوں گا؟
صورتِ مسئولہ میں سائل اگر ملازمت کے سلسلہ میں 2018 میں اپنے اہل و عیال سمیت اسلام آباد کرایہ کے گھر منتقل ہو گیا ہو ، مگر اس نے کبھی بھی اسلام آباد میں مستقل رہائش اختیار کرنے یا پندرہ دن یا اس سے زیادہ یہاں قیا م کی نیت نہ کی ہو، تو ایسی صورت میں اسلام آباد میں پندرہ دن سے کم کی صورت میں سائل کا نمازوں میں قصر کرنا درست تھا، جبکہ اب اسلام آباد میں ذاتی گھر خرید کر سائل نے بمع اہل و عیال منتقل ہونے کے بعد آبائی علاقے کےساتھ ساتھ یہاں بھی مستقل سکونت اختیار کرنے کی نیت کر لی ہو، تو ایسی صورت میں اسلام آبادبھی اس کا وطن اصلی شمار ہوکر یہاں پر بھی اسے اتمام یعنی پوری نماز پڑھنے کا اہتمام لازم ہوگا ۔ البتہ اپنے گھر کی خریداری کے باوجود سائل کا اسلام آباد میں مستقل رہنے کا ارادہ نہ ہو ، تو اگرچہ انہوں نے اپنا ذاتی گھر یہاں خرید لیا ہو تب بھی پندرہ دن سے کم قیام کی نیت کے وقت ان پر نمازوں میں قصر کرنا ہی لازم ہوگا ۔
كما في تنوير الأبصار : من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدا مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة صلى الفرض الرباعى ركعتين ( باب صلاة المسافر، ج ۲، ص 121، ط : سعيد)-
و في البحر الرائق : و كثير من المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها، يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له، لا يبطل أحدهما بالآخر (كتاب الصلاة، باب المسافر، ج ۲، ص ۱۳6، : ماجدية)-
وفيه أيضا : و قيد بنية الإقامة لأنه لو دخل بلدا ولم ينو أنه يقيم فيها خمسة عشر يوما وإنما يقول غدا أخرج أو بعد غد أخرج حتى بقي على ذلك سنين قصر الخ (باب المسافر ، ج 2، ص ١٣١،ط : ماجدية)-
و في الدر المختار ( الوطن الأصلي ) هو موطن ولادة أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثلہ ) إذا لم يبق له بالأول أهل ، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما الخ ( باب صلاة المسافر ،ج ۲، ص ا ١٣ ، : سعید)-
و في رد المحتار تحت ( قوله بل يتم فيهما ) أي بمجرد الدخول وإن لم ينو إقامة (مطلب في الوطن الأصلي ووطن الإقامة ، ج۲، ۱۳۲، سعید)-
وفي الفتاوى الهندية : ويبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي إذا انتقل عن الأول بأهله وأما إذا لم ينتقل بأهله ولكنه استحدث أهلا ببلدة أخرى فلا يبطل وطنه الأول و يتم فيهما الخ (كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر،ج 1، ص 303 ، ط: رشيدية)-
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4