۱۔ السلام علیکم! میں شارجہ میں رہتا ہوں، میرا آفس نوے (۹۰) کلو میٹر دور ہے، میں روزانہ آتا جاتا ہوں، کیا اس صورت میں قصر نماز پڑھوں گا یا نارمل نماز؟
۲۔ میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ نماز کی دو رکعت نکل گئی اور میں نے تیسری رکعت میں امام صاحب کے ساتھ شامل ہوگیا، پھر میں سلام کے بعد باقی رکعات پوری کرونگا، کیا میں اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے دوبارہ سے ثناء، الحمد شریف، اور کوئی سورت پڑھوں گا؟ یا صرف الحمد شریف پڑھ کر رکوع میں چلا جاؤں گا؟ براہِ کرم میری راہ نمائی فرمائیں۔
۱۔ سائل کا دفتر اگر شہر کی حدود سے باہر مذکور فاصلے پر واقع ہو تو سائل راستہ اور دفتر میں انفرادی طور پر یا مسافر امام کی اقتداء میں چار رکعت والی نمازوں میں قصر ہی کرےگا نہ کہ اتمام، اور اگر دفتر شہر کی حدود کے بعد ۷۸ کلومیٹر سے کم فاصلے پر واقع ہو تو اس صورت میں وہ اپنی نماز پوری پڑھے۔
۲۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد بقیہ دو رکعت نماز اس طرح مکمل کریں کہ پہلی رکعت میں ثناء، تعوذ، الحمد شریف اور سورت پڑھیں اور دوسری رکعت میں صرف الحمد شریف اور سورت پڑھیں۔
ففی الفتاوى الهندية: أقل مسافة تتغير فيها الأحكام مسيرة ثلاثة أيام، كذا في التبيين، هو الصحيح، كذا في جواهر الأخلاطي اھ (1/ 138)
وفیها أیضاً: قال محمد - رحمه الله تعالى - يقصر حين يخرج من مصره ويخلف دور المصر، كذا في المحيط وفي الغياثية هو المختار وعليه الفتوى، (إلی قوله) وكذا إذا عاد من سفره إلى مصره لم يتم حتى يدخل العمران اھ (1/ 139)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: والمسبوق: من سبقه الإمام بكل الصلاة أو ببعضها. وحكمه أنه كالمنفرد بعد البدء بقضاء ما فاته، فيأتي بدعاء الثناء، والتعوذ لأنه للقراءة، ويقرأ؛ لأنها يقضي أول صلاته في حق القراءة، فلو ترك القراءة، فسدت صلاته، كما يقضي آخر صلاته في حق التشهد. شا (2/ 1228)
وفی الفتاوى الهندية: فإذا قام إلى قضاء ما سبق يأتي بالثناء ويتعوذ للقراءة. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة والظهيرية. اھ (1/ 91)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4