السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! فتاویٰ محمودیہ میں اہلِ تبلیغ کے متعلق حضرت نے تحریر فرمایا ہے مبلّغین حضرات تبلیغ کے لیے سفر کریں تو دورانِ اقامت مقیم نہیں بنتے، بلکہ مسافر ہی رہتے ہیں، تو کیا اب بھی اگر کسی گاؤں یا شہر میں مستقل پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے سے اہلِ تبلیغ مسافر حضرات مقیم نہیں بنتے؟
سائل نے جس کتاب کا حوالہ دیا ہے اس میں تو یہ مسئلہ پوری وضاحت سے لکھا ہوا ہے، جبکہ سائل نے اس کو مطلقاً مقیم نہ بننے کا حکم لکھ دیا ہے جو کہ غلط ہے، تاہم اگر کوئی جماعت اپنے شہر سے سفر شرعی (۷۸کلومیٹر) کے ارادے سے باہر نکلے اور جس شہر میں ان کی تشکیل ہوتی ہے اگر وہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ ہو توہاں پر وہ پوری نماز پڑھیں گے، البتہ کسی جگہ پندرہ دن سے کم کا قیام ہو تو اپنی انفرادی نماز میں تبلیغی جماعت والے قصر کریں گے۔
ففی الفتاوى الهندية: ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية اھ (1/ 139)
وفی الدر المختار: من خرج من عمارة موضع إقامته قاصدامسيرة ثلاثة أيام ولياليهابالسير الوسط مع الاستراحات المعتادة صلى الفرض الرباعي ركعتين اھ(2/ 121)
وفیه أیضاً: (فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر (أو دخل بلدة ولم ينوها) أي مدة الإقامة اھ(2/ 126)واللہ أعلم بالصواب!
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4