کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے کہ:
میں نے اپنے بھائی کے بیٹے مسمی فراز کو دودھ پلایا ہے، اور مسمی فراز کی ایک بہن ہے مسماۃ مسکان، جو کہ میری بھتیجی ہیں ، تو اب میں اپنے بیٹے مسمی بلال کا اپنی بھتیجی مسماۃ مسکان کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہوں ، آیا یہ نکاح کرنا درست ہے کہ نہیں ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سائلہ نے اگر اپنی بھتیجی"مسماۃ مسکان" کو دودھ نہ پلایا ہو ،اور نہ ہی سائلہ کے بیٹے" مسمی بلال "نے مسکان کی والدہ کا دودھ پیا ہو ،تو ایسی صورت میں سائلہ کے بیٹے"مسمی بلال"کا"مسماۃ مسکان"کیساتھ نکاح کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہوگا۔
کما فی ردالمحتار:لو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وجدها لأنها أختهم من الرضاعة اھ(3/217) والله اعلم
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0