السلام علیکم !مجھے یہ پوچھنا ہے کہ کیا سچ میں ایک دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ہوجاتی ہے ؟ لیکن میں نے صحیح مسلم کے حدیث میں دیکھا ہے کہ پانچ مرتبہ کا حکم ہے ، آپ مہربانی کرکے مجھے صحیح رہنمائی کریں ، یہ میری پوری زندگی کاسوال ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ، حَدَّثَتْ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ أَوِ الرَّضْعَتَانِ، أَوِ الْمَصَّةُ أَوِ الْمَصَّتَانِ
ہمیں محمد بن بشر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ عبداللہ بن حارث سے روایت کی کہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی ، اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ایک یا دو مرتبہ دودھ پینا یا ایک دو مرتبہ دودھ چوسنا حرمت کا سبب نہیں بنتا ۔‘‘ صحیح مسلم:3593 کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل۔
عند الاحناف مدتِ رضاعت میں اگر دودھ کا ایک قطرہ بھی حلق میں چلا جائے تو اس سے بھی حرمتِ رضاعت ثابت ہوجاتی ہے ، جس پر قرآن و سنت کی نصوص شاہد ہیں، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے مطلقاً دودھ پلانے کی وجہ سے دودھ پلانے والی عورت کو رضاعی والدہ قرار دیا ہے ،اسی طرح صحیح بخاری کی روایت میں بھی حرمتِ رضاعت کی وجہ سے ان تمام رشتوں کو حرام قرار دیا ہے جو نسب کی وجہ سے حرام ہوں اور اس میں بھی ثبوتِ رضاعت کے لئے دودھ پلانے کی کوئی خاص مقدار منقول نہیں بلکہ اسے مطلق ذکر کیا گیا ہے، جہاں تک سوال میں ذکر کردہ روایتِ مبارکہ کا تعلق ہے تو عند الاحناف یہ روایت منسوخ ہوچکی ہے جس پر ابنِ عباسں رضی اللہ عنہ کی روایت شاہد ہے جس میں دو یا تین مرتبہ دودھ پینے سے ثبوتِ رضاعت کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ یہ پہلے کی بات تھی اور اب ایک مرتبہ دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے ، لہذا کسی بھی حنفی شخص کےلئے اس حدیث کو بنیاد بنا کر مفتیٰ بہ قول کے خلاف عمل کرناجائز نہیں ،اس سے احتراز لازم ہے ۔
کما قال اللہ تعالی : وَ أُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ۔(النساء: 23)۔
و فی سنن الترمذی: انَّ ﷲَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ۔ ( رقم: 1146)۔
و فی صحیح البخاری: يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ۔(رقم؛ 2502)۔
و فی احکام القرآن للجصاص: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الرَّضَاعِ فَقُلْت : إنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلَا الرَّضْعَتَانِ قَالَ : قَدْ كَانَ ذَاكَ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَالرَّضْعَةُ الْوَاحِدَةُ تُحَرِّمُ۔ (224/4)۔
و فی الھندیۃ : قلیل الرضاع و کثیره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحریم . کذا في الهدایة ۔(342/1)۔
و فی الدر المحتار : (و يثبت به) و لو بين الحربيين بزازية (و إن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير ، فلو التقم الحلمة و لم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكًّا ، ولوالجية.۔( 3 / 212)۔
و فی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق : قیل لابن عمر رضي اللّٰه عنهما إن ابن الزبیر یقول لا تحرم الرضعة و لا الرضعتان . فقال : قضاء اللّٰه تعالیٰ أولیٰ من قضاء ابن الزبیر . قال اللّٰه تعالیٰ : وَ اُمَّهٰتُکُمُ اللاَّتِیْ اَرْضَعْنَکُمْ وَ اَخَوَاتُکُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ۔(631/2)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0