السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
جناب مجھے ایک گھر خریدنے کے لیے دس لاکھ روپے کی رقم درکار ہے، میرا دوست کہہ رہا ہے کہ یہ رقم میں دے دیتا ہوں، اور بدلے میں وہ میرے گھر کے ایک پورشن میں خود اپنی فیملی سمیت رہائش اختیار کر کے مجھے ماہانہ 5000 روپے کرایہ دے گا، جب تک میں اس کے دیئے ہوئے دس لاکھ رپے کی رقم واپس نہیں کر دیتا، جبکہ اس گھر کا موجودہ کرایہ پندرہ ہزار تک ہے ، جناب اس معاملہ میں اسلام اور شریعت کا کیا حکم ہو گا ؟ میری راہ نمائی فرمائیں۔
مسئولہ صورت میں سائل کے دوست کا قرض دینے کے بدلہ سائل کے گھر میں معروف اور رائج کرایہ سے کم کرایہ کی شرط پر رہائش اختیار کرنا، قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے شرعا جائز نہیں، جس سے اُسے احتراز لازم ہے۔
لما في القرآن الكريم {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [آل عمران: 130]
و في المصنف لإبن أبي شيبه: حدثنا وكيع قال حدثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره كل قرض جر منفعة اھ (5/ 74)
و في الأشباه والنظائر لابن نجيم: كل قرض جر نفعا حرام. (ص: 226) والله اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1