اگر غسل واجب ہو تو کیا آپ کسی دوسرے کو ہاتھ لگاسکتے ہیں؟ اگر اسی حالت میں دوسرے کو ہاتھ لگالیا، تو دوسرے کو بھی غسل کرنا پڑیگا؟ غسل کرنے سے پہلے الماری سے اپنے کپڑے نکال سکتے ہیں؟ اس کا کیا طریقہ ہوگا؟
واضح ہو کہ غسل واجب ہوجانے کی صورت میں انسان کے اعضاء اور بدن اس طرح ناپاک نہیں ہوتے ، کہ کسی دوسرے انسان یا کپڑوں وغیرہ کو ہاتھ لگانے سے وہ ناپاک ہوجائیں ، اس لیے غسل واجب ہونے کے بعد کسی کو ہاتھ لگانے سے دوسرا شخص ناپاک نہیں ہوگا، اور نہ ہی اس پر اس جگہ کو دھونا یا غسل کرنا لازم ہوگا، اسی طرح غسل کرنے سے پہلے اپنے الماری سے اپنے کپڑے وغیرہ نکالنے سے وہ کپڑیں بھی ناپاک نہ ہوں گے، تاہم وجوب غسل کے بعد جسم یا ہاتھ پر لگی ہوئی نجاست اگر گیلی ہو اور کسی کے بدن یا کپڑوں وغیرہ کو لگ جائیں، تو ناپاکی لگنے کی وجہ سے وہ جسم یا کپڑیں بھی ناپاک ہوجائیں گے،اور فقط اس ناپاک حصہ کو دھونا لازم ہوگا۔
کما فی بدائع الصنائع: "أن أعضاء المحدث طاهرة حقيقة وحكما، أما الحقيقة؛ فلانعدام النجاسة الحقيقية حسا ومشاهدة.وأما الحكم؛ فلما روي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «كان يمر في بعض سكك المدينة، فاستقبله حذيفة بن اليمان، فاراد النبي - صلى الله عليه وسلم - أن يصافحه فامتنع وقال: إني جنب يا رسول الله فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: إن المؤمن لا ينجس» .وروي أنه - صلى الله عليه وسلم - «قال لعائشة - رضي الله عنها -: ناوليني الخمرة، فقالت: إني حائض، فقال: ليست حيضتك في يدك؛» ولهذا جاز صلاة حامل المحدث والجنب، وحامل النجاسة لا تجوز صلاته." (كتاب الطهارة ،في الطهارة الحقيقية ،67/1،ط: دار الكتب العلمية)