السلام علیکم !میرے شوہر اور میرے درمیان کسی بات پر بحث ہوگئی اور غلطی بھی شوہر کی تھی ،میں نے پھر بھی معافی مانگ لی شوہر نے معاف بھی کر دیا پھر شوہر نے ساری بات اپنی امی کو بتادی کمرے کی ،انکی امی نے میرے ماں باپ سے شکایت کی جب میں نے شوہر سے کہا کہ آپ کمرے کی بات پر ماں باپ کو بیچ میں نہیں لاتے جب آپ معاف کر چکے تھے تو انہوں نے کہا میرا ہر مسئلہ میرے ماں باپ حل کر ینگے اور اس دن سے شوہر نے بات کرنی چھوڑ دی، نہ انکی امی بات کر رہی میں اپنی ساس کی بہت عزت کرتی ہوں اور میں نے انہیں اف تک نہیں کہا اپنے شوہر سے بات کی تھی شوہر سے معافی مانگ لی لیکن وہ میرے شوہر کو بات نہیں کرنے دے رہیں اورنہ شوہر میری سن رہا ہے، میں نے سو فون کیے اور معافیاں مانگی لیکن انکا کہنا ہے میری امی نے منع کیا ہے تین مہینے ہوگئے اپنے ماں باپ کے ساتھ ہوں کوئی رابطہ نہیں نان نفقہ بھی بند کر دیا اور میری ساس ہر بات میں بےجادخل ، کمرے کی ہر بات پوچھنا اور شوہر کو بھڑکانا ،وہ پھر بات چیت ختم کر دیتے ہیں۔ میری ساس جس کو اچھا کہتی ہیں اسے اچھا کہتے ہیں جسے وہ برا کہہ دیں اسے برا،مجھے بھی کہتے ہے جو میری امی کہیں وہ کرو چاہے غلط کیوں نہ ہو whatsapp پر میری ساس نے بلاک کیا تو شوہر نے بھی بلاک کر دیا ان حالات میں خلع لینے والی عورت گنہگار تو نہیں ہوگی؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اورمبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو سائلہ کی ساس اور شوہر کا چھوٹی موٹی معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر آپس میں تلخیاں پیدا کرنااور ایک دوسرے سے بات چیت ختم کرکے قطع تعلق کردینا اور معافی مانگنے کے باوجود معاف نہ کرنا قطعاً مناسب نہیں ، بلکہ احادیث ِمبارکہ میں اس کے متعلق سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں ،لہذا سائلہ کے شوہر اور ساس کو چاہیے کہ معمولی باتوں کو نظرانداز کرکے تعلقات بحال کرنے کی اور گھر بسانے کی فکر کریں، لیکن اگر وہ اپنے مذکورطر زِعمل سے باز نہ آئیں تو سائلہ کے لئے طلاق بالمال یا شوہر کی رضامندی سے خلع کے ذریعےاپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنا شرعاً جائز اور درست ہوگا اس کی وجہ سے سائلہ گناہگار بھی نہ ہوگی۔
کما قال اللہ تعالی: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا} [النساء:٣٥]۔
وفى احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا انھمالايجوز خلعھما الأبرضى الزوجين فقال اصحابناليس للحكمين ان يفرفا الأبرضى الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وانما الحكمان وكيلان لھما آحدهما وكيل المراة والأخر وكيل الزوج في الخلع إلى قوله وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاء يخرجا المال عن ملكها۔(2/239)