نکاح

جس عورت سے (العیاذ باللہ) زنا کیا اسی کی بیٹی سے کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
67960
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / احکام نکاح / نکاح

جس عورت سے (العیاذ باللہ) زنا کیا اسی کی بیٹی سے کئے ہوئے نکاح کا حکم

اگر مز نیہ کی بیٹی سے نکاح ہو جائے تو کیا وہ نکاح حرام ہے یا حلال?

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زانی پر مزنیہ کے اصول (ماں دادی, نانی وغیرہ)اور فروع(بیٹی پوتی , نواسی وغیرہ)دونوں حرام ہوتے ہیں اور ان کا آپس میں نکاح شرعاً جائز نہیں -
لہذا صورتِ مسئولہ میں زانی کیلئےاپنی مز نیہ کی بیٹی سے نکاح شرعاً جائز نہیں , جس سے احتراز لازم ہے،اگر مسئلہ سے لاعلمی کی وجہ سے نکاح ہوجائے تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوگا،لہذا اس کیلئے لڑکی کیساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ اس پر لازم ہے کہ متارکت کے الفاظ مثلاً” میں نے تمہیں چھوڑ دیا “وغیرہ کہہ کر اسکو آزاد کر دے ،تا کہ لڑکی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مصنف ابن ابی شیبہ : عن ابی ھانی قال قال رسول اللہ ﷺ من نظر الی فرج امراۃ لم تحل لہ امھا و لاابنتھا اھ(9/99)۔
و فی الھندیہ : فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها و إن علت و ابنتها و إن سفلت اھ(1/274)۔
وفی اتاتارخانیۃ:وفی الخانیۃ حرمۃ الصہریۃ تثبت بالعقد الجائز وبالوطئی حلالاً کان او حراماً اوعن شبہۃ اوزنا اھ(4/48)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیمان عظیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67960کی تصدیق کریں
0     314
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات