اگر مز نیہ کی بیٹی سے نکاح ہو جائے تو کیا وہ نکاح حرام ہے یا حلال?
واضح ہو کہ زانی پر مزنیہ کے اصول (ماں دادی, نانی وغیرہ)اور فروع(بیٹی پوتی , نواسی وغیرہ)دونوں حرام ہوتے ہیں اور ان کا آپس میں نکاح شرعاً جائز نہیں -
لہذا صورتِ مسئولہ میں زانی کیلئےاپنی مز نیہ کی بیٹی سے نکاح شرعاً جائز نہیں , جس سے احتراز لازم ہے،اگر مسئلہ سے لاعلمی کی وجہ سے نکاح ہوجائے تو یہ نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوگا،لہذا اس کیلئے لڑکی کیساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ اس پر لازم ہے کہ متارکت کے الفاظ مثلاً” میں نے تمہیں چھوڑ دیا “وغیرہ کہہ کر اسکو آزاد کر دے ،تا کہ لڑکی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو۔
کما فی مصنف ابن ابی شیبہ : عن ابی ھانی قال قال رسول اللہ ﷺ من نظر الی فرج امراۃ لم تحل لہ امھا و لاابنتھا اھ(9/99)۔
و فی الھندیہ : فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها و إن علت و ابنتها و إن سفلت اھ(1/274)۔
وفی اتاتارخانیۃ:وفی الخانیۃ حرمۃ الصہریۃ تثبت بالعقد الجائز وبالوطئی حلالاً کان او حراماً اوعن شبہۃ اوزنا اھ(4/48)۔